دہلی میٹرو میں تمام سیٹوں پر بیٹھ کر سفر کرنے کا سلسلہ شروع، کھڑے ہونے پر پابندی برقرار

نئے ضوابط کے مطابق آ ج سے میٹروکی تمام سیٹوں پر مسافروں نے بیٹھ کر سفرکرنا شروع کر دیا ہے لیکن کوچ کے اندرکھڑے ہوکر سفر کرنے کی اجازت ابھی نہیں ہے۔

دہلی میٹرو کی فائل تصویر آئی اےاین ایس
دہلی میٹرو کی فائل تصویر آئی اےاین ایس
user

قومی آوازبیورو

کورونا کے تعلق سے نئے ضابطوں کے مطابق آج سےدہلی میٹرو میں مسافر وں نے تمام سیٹوں پربیٹھ کرسفر کرنا شروع کر دیا ہے یعنی میٹرو میں اب ایک سیٹ چھوڑ کر بیٹھنے کا ضابطہ ختم ہو گیا ہے۔ دہلی کی بسوں میں بھی اب ہر سیٹ پر مسافر بیٹھ سکتے ہیں ۔

کورونا وبا کی دوسری لہر کے بعد لاگو کئے گئے لاک ڈاؤن میں میٹرو کی خدمات معطل کر دی گئی تھیں جن کو پچاس فیصد صلاحیت کے ساتھ کھول دیا گیا تھا اور اب اس کو سو فیصد صلاحیت کے ساتھ کھول دیا گیا ہے لیکن اس میں ایک پیچ ہے کہ ابھی بھی میٹرو میں مسافر کھڑے ہو کرسفر نہیں کر سکتے۔ہلی میٹروریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ ترمیمی رہنما ہدایات کے تعلق سے وضاحت کی ہے کہ پیر یعنی آ ج سے میٹروکی تمام سیٹوں پر مسافربیٹھ کر سفرکرسکیں گے لیکن کوچ کے اندرکھڑے ہوکر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔


واضح رہے کورونا دورکے بعد مسافروں کو ایک سیٹ کو چھوڑ کر بیٹھنے کی اجازت تھی۔دہلی میٹرونے یہ وضاحت پرنٹ، ڈیجیٹل اورالیکٹرانک میڈیا کے کچھ حصوں میں آئی ان خبروں کے بعد دیا ہے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ دہلی میٹرو پیرسے اپنی 100 فیصد صلاحیت کے ساتھ سروس کاآپریشن کرے گی۔ڈی ایم آرسی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پیر سے فی کوچ زیادہ سے زیادہ 50 مسافروں کو ہی سفرکرنے کی اجازت ہوگی کیونکہ کورونا سے پہلے کوچ میں کھڑے ہوکر اورسیٹ پر بیٹھ کر سفرکرنے والوں کی تعدادتقریباً 300 ہوجاتی تھی۔

میٹرونے یہ بھی کہا ہے کہ تمام مسافروں کے جسم کی حرارت کی جانچ، ان کے سامان کوسینیٹائز کرنے اورمسافروں کی جانچ کے سبب میٹرواسٹیشنوں کے باہرمسافروں کوطویل قطاروں کاسامنا کرنا پڑرہا ہے، لیکن حکومت کے کورونا سے متعلق ہدایات کی پیروری کرناضروری ہے۔ڈی ایم آرسی نے ایک بار مسافروں سے اپیل کی ہے کہ ضروری ہونے پر ہی میٹرو سے سفرکریں اورکورونا سے متعق ہدایات کی پیروی کریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 26 Jul 2021, 8:11 AM