مایاوتی نے بی جے پی کو ہرانے کا عزم پھر دوہرایا

مایاوتی نے کہا، اگر پارٹی کو قابل عزت تعداد میں نشستیں ملتی ہیں تو اتحاد پر کوئی اعتراض نہیں ہے ورنہ وہ انتخابی میدان میں تنہا جانے کےلئے تیار ہیں۔

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئندہ انتخابات میں عظیم اتحاد کے ذریعہ بی جے پی کو اکھاڑ پھینکنے کے اپنے عزم کو پھر دوہرایا ہے۔ حالانکہ کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں مناسب سیٹیں ملنی چاہییں۔

سبھا انتخابات سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) کے خلاف عظیم اتحاد کی کوشش میں لگے اپوزیشن کو آگاہ کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے کہا کہ نشستوں کی قابل عزت تعداد ملنے پر ہی ان کی پارٹی اتحاد کا حصہ بننے کو راضی ہوگی۔

مایاوتی نے کہا، ’’بی ایس پی اتحاد کے خلاف نہیں ہے، لیکن وہ اپنی عزت کے ساتھ بھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اگر پارٹی کو قابل عزت تعداد میں نشستیں ملتی ہیں تو اتحاد پر کوئی اعتراض نہیں ہے ورنہ بی ایس پی انتخابی میدان میں تنہا جانے کےلئے تیار ہے۔‘‘

بی ایس پی کی سربراہ نے کہا کہ وعدہ خلافی کےلئے پہچانے جانے والے بی جےپی لیڈران کی جملے بازی کادور اب ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو اقتصادی بدحالی اور بے روزگاری سے دوچار کرنے والی اس پارٹی کی حکومت کا لوک سبھا انتخابات میں نام ونشان نہیں رہےگا۔

انہوں نے کہاکہ لوک سبھا اور تین ریاستوں کے اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی بی جےپی پھرسے متوجہ کرنے والے وعدوں کی حکمت عملی پر کام کرنے لگی ہے۔ اپنی ناکامیوں اور کارگزاریوں پر پردہ ڈالنے کےلئے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے نام کا استعمال کیا جارہا ہے۔ سابق وزیراعظم کی زندگی میں بھی بی جے پی نے ان کی پالیسیوں سے کوئی سبق نہیں لیا اور اب ان کے انتقال کے بعد بی جےپی آنجہانی لیڈر کی پالیسیوں کی دہائی دیتی رہتی ہے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

سب سے زیادہ مقبول