قومی

کانگریس کی حکومت میں ماہی گیروں کے لئے ہوگی خصوصی وزارت: راہل گاندھی

کیرالہ کے تریپریار میں ماہی گیروں سے مکالمہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے وعدہ کیا کہ اگر مرکز میں کانگریس پارٹی اقتدار میں آئے گی تو ماہی گیروں کے لئے خصوصی وزارت قائم کی جائے گی۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

کیرالہ میں تریچور کے تریپریار میں فشرمینز پارلیمنٹ (ماہی گیروں کی پارلیمان) تقریب میں کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے ماہی گیروں سے بات کی۔ اس دوران انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو ماہی گیروں کی بہبود کے لئے علیحدہ سے وزارت قائم کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا، ’’ہم یہیں نہیں رُکیں گے، حکومت میں قومی سطح پر سرکاری ملازمتوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن اور ماہی گیر طبقہ سے زیادہ سے زیادہ خواتین کو لانے کی کوشش ہوگی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ملک کے ماہی گیر کئی مسائل سے دو چار ہیں لیکن مودی حکومت میں ان کی سماعت نہیں ہو رہی ہے۔ آپ کی پریشانی تبھی سلجھ سکتی ہے جب حکومت میں کوئی آپ کا ایک نمائندہ ہو۔ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ جب مرکز میں کانگریس پارٹی کی حکومت بنے گی تو اس تعلق سے ایک وزارت کا قیام کیا جائے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا، ’’میں مودی کی طرح جھوٹے وعدے نہیں کرتا۔‘‘

ماہی گیروں کی پارلیمان میں انہوں نے کہا کہ مودی حکومت میں صنعت کاروں کی آواز آسانی سے سنی جاتی ہے، لیکن کسانوں، ماہی گیروں اور مختلف طبقات کو اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کی جد و جہد کرنی پڑتی ہے‘‘

انہوں نے کہا، ’’2019 میں جب ہم حکومت میں آئیں گے تو ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر شخص کے لئے کم از کم آمدنی کی گارنٹی دیں گے۔ اس سے ان لوگوں کو فائدہ ہوگا جن کی آمدنی کم از کم آمدنی سے کم ہوگی۔ ایسے افراد کو حکومت کی طرف سے مدد دی جائے گی۔‘‘

راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا، ’’لاکھوں کروڑ روپے کئی صنعت کاروں کو دے دیئے گئے لیکن مودی حکومت نے کسانوں کا ایک روپیہ بھی معاف نہیں کیا۔ اگر وزیر اعظم مودی لاکھوں کروڑ روپے چند صنعت کاروں کو دے سکتے ہیں تو ملک کے اس طبقہ کو کیوں نہیں دے سکتے، جسے اس کی زیادہ ضرورت ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’اگر ملک کے لوگوں کو روزگار دینا اور بینکنگ سسٹم کو سدھارنا ہے تو اس کے لئے کئی اقدام اٹھانے ہوں گے۔ وزیر اعظم مودی جو پیسہ نیرو مودی، میہل چوکسی اور وجے مالیا جیسے چند صنعت کاروں کو دے دیتے ہیں، لیکن ان پیسوں کو چھوٹے صنعت کاروں کو دینا پڑے گا، کیوں کہ چھوٹے صنعت کار ہی ملک میں روزگار پیدا کریں گے نہ کہ نیرو مودی اور میہل چوکسی جیسے لوگ۔‘‘