کیجریوال مودی مخالف اتحاد کا حصہ نہیں ہوں گے، بلی تھیلے سے باہر!

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال

راجیہ سبھا کے ڈپٹی چئیرمین کے انتخاب کے دوران راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنا کر عام آدمی پارٹی نے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ مودی مخالف اتحاد کا حصہ نہیں بن سکتی۔

لیجئے بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے کل راجیہ سبھا میں ڈپٹی چئیرمین کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کے بعد شام کو باقائدہ اعلان کر دیا کہ سال 2019 میں ہونے والے عام انتخابات میں وہ مودی مخالف بننے والے حزب اختلاف کے اتحاد کا حصہ نہیں ہوں گے۔

یہ کوئی ایسی خبر نہیں ہے جس پر حیران ہونے کی ضرورت ہو کیونکہ کانگریس عام ٓادمی پارٹی پر یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ وہ بی جے پی کی ’بی‘ ٹیم ہے اور دہلی میں جو کیجریوال حکومت اور ایل جی میں جھگڑا رہتا ہے وہ نورا کشتی کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف بی جے پی مخالف ووٹوں کو منقسم رکھنا ہے۔ کل راجیہ سبھا کے ڈپٹی چئیرمین کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کی اپنی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے جس طرح عام آدمی پارٹی کےرہنماؤں نے کانگریس صدر کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اس سے ہی واضح ہو گیا تھا کہ عام آدمی پارٹی مودی مخالف اتحاد کا حصہ نہیں بن سکتی۔

دہلی کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر ہارون یوسف کا کہنا ہے کہ ’’اگر عام آدمی پارٹی کے ماضی پر نظر ڈالیں گے تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کس کے لئے کام کرتی ہے۔اس پارٹی کے رام لیلا میدان سے لے کر اب تک کے سفرکو آپ دیکھیں گے تو کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس پارٹی کے جنم سے لے کر پرورش تک کا سارا کام آر ایس ایس نے کیا ہے اور سنگھ کی اس پرورش کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ کانگریس کا مودی مخالف ووٹرز بلخصوص مسلمانوں اور دلتوں کو تقسیم کر کے رکھا جائے تاکہ بی جے پی کو اقتدار میں لانے میں مدد کی جا سکے۔

دہلی میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اس پارٹی نے کسی بھی اس ریاست سے چناؤ نہیں لڑا ہے جہاں کانگریس بر سر اقتدار ہو تاکہ کانگریس مخالف ووٹ تقسیم نہ ہو اور جہاں بی جے پی اقتدار میں تھی وہاں لڑا تاکہ بی جے پی مخالف ووٹ تقسیم ہو جائے اور بی جے پی اقتدار میں رہے۔ اب یہ عوام کو دیکھنا ہے کہ وہ سیدھے مودی کو ہرانا چاہتے ہیں یا پھر عام آدمی پارٹی کے پیچھے کھڑے ہو کر مودی کو اقتدار میں دوبارہ لانا چاہتے ہیں ‘‘۔

سنجے سنگھ سے لے کر عام آدمی پارٹی کے کئی رہنماؤں نے کل راہل گاندھی کے خلاف یہ کہہ کر بیان دیا کہ جو رہنما حزب اختلاف کی پارٹیوں سے بات بھی نہیں کرتا وہ کیسے اتحاد قائم کر سکتا ہے ۔ ویسے تو یہ بیان پوری طرح بے بنیاد ہے لیکن اگر عام آدمی پارٹی اس مودی کی اتنی بڑی مخالف ہے جس کی حکومت ان کو دہلی میں کام نہیں کرنے دیتی تو اس کے خلاف ووٹ ڈالنے میں کیا نقصان تھا ۔ مودی کی مخالفت اس لئے ترک کر دی گئی کیونکہ راہل نے ان سے رابطہ نہیں کیا ۔

کیجریوال عوام کی سیاست کرنے کے نام پر مودی مخالف ووٹ تقسیم کرنے کی پوری کوشش کریں گے اور شائد ان کے ایس رویہ کی وجہ سے ان کو صدارتی انتخابات میں کسی نے نہیں پوچھا تھا اور ابھی تک حزب اختلاف کے اتحاد کی میٹنگوں میں انہیں کوئی نہیں بلاتا۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے روہتک میں جو کل بیان دیا ہے کہ وہ سال 2019 کے عام انتخابات میں کسی بھی اتحاد کا حصہ نہیں ہوں گے ، اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول