کرناٹک :دیکھئے ! آگے آگے ہوتا ہے کیا؟

کرناٹک :دیکھئے ! آگے آگے ہوتا ہے کیا؟

کرناٹک کے نتائج نے جہاں بہت سے سوال کھڑے کر دئے ہیں وہیں مستقبل پر بھی کچھ روشنی ڈالی ہے۔

کرناٹک انتخابات سے قبل زیادہ تر  سیاسی مبصرین کی رائے تھی کہ یہ انتخابات اس لئے بہت اہم ہیں کیونکہ  سال  2019میں ہونے والے عام انتخابات  میں کیا ہوسکتا ہے اس کو سمجھنے کے لئے تھوڑی روشنی ضرور ڈالیں گے۔  کہا یہ جا رہا تھا کہ کرناٹک میں اگر کانگریس کی واپسی ہو تی ہے تو اس واپسی سے مرکز  کی بی جے پی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو سکتی ہے اور اگر کرناٹک میں بی جے پی   کی واپسی ہوتی ہے تو پھر  مودی کے لئے  عام انتخابات بہت آسان ہو جائیں گے ۔ انتخابی مہم، ایگزٹ پول کی طرح  کرناٹک کے نتائج نے بھی کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور حکومت سازی کو لے کر تصویر اتنی ہی دھندلی ہے جتنی انتخابات سے قبل تھی۔

نتائج آنے کے بعد سے ہی بنگلور کا راج بھون تمام تر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ ظاہر ہے ایسے حالات میں ایسا ہوتا بھی ہے۔ بی جے پی  گوا، منی پور، میگھالیہ کو بھول کر  عوام کے سامنے یہ تاثر پیش کرنا چاہتی ہے کہ  سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے با وجود سیاسی مخالفین اس کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں۔ بی جے پی اس کو آئین اور اخلاقی طور پر غلط بتانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ویسے لفظ ’اخلاقی‘  یا عوام کی رائے کے ساتھ کھلواڑ کرنے جیسے الفاظ کا استعمال کرنے کا حق بی جے پی  نے اس وقت ہی کھو دیا تھا جب اس نے گوا ، منی پور اور میگھالیہ میں عوام کی رائے کارتی بھر پاس نہیں رکھا تھا ۔ ادھر کم سیٹیں حاصل کرنے کے با وجود کانگریس حکومت سازی کی اپنی کوشش کو اس لئے جائز ٹھہرا سکتی ہے کیونکہ کرناٹک کےعوام کی اکثریت نے اس کو ووٹ دیا ہے یعنی کانگریس 38 فیصد ووٹ حاصل کر کے سب سے زیادہ ووٹ فیصد حاصل کرنے والی  پارٹی ہے۔واضح رہے بی جے پی کو کانگریس سے1.8 فیصد  کم یعنی 36.2 فیصد ووٹ ہی حاصل ہوئے ہیں۔وہیں جے ڈی ایس کو 18.3 فیصد ووٹ ملے ہیں ، اگر ان دونوں کے ووٹوں کو ملا دیا جائے تو کانگریس -جے ڈی ایس کے کل ووٹ فی صد 56.3 ہو جاتے ہیں۔ کانگریس  اخلاقی طور پر اس لئے خود کو مضبوط  کہہ سکتی ہے کیونکہ بی جے پی نے جو کچھ گوا، منی پور اور میگھا لیہ میں کیا اس کے بعد ایسا کرنے میں اس کو کچھ غلط نہیں لگے گا کیونکہ اس کھیل کے ضابطے تو  بی جے پی نے پہلے ہی بدل دیئے ہیں ۔

اب کرناٹک کے انتخابی نتائج کے بعد جو ماحول بنا ہے اور جس طرح کنگ میکر کو کنگ   کے کردار میں پیش کیا جا رہا ہے اس پر بہت تبصرے کئے جا سکتے ہیں ۔  نتائج کے پوسٹ مارٹم میں بی جے پی کی حکمت عملی کی خوبیاں ، کانگریس کی حکمت عملی میں بنیادی کمیاں ، اندرونی اختلافات اور جے ڈی ایس کے اپنے قلع کو بچانے میں کامیابی  پر بہت کچھ لکھا اور بولا جا چکا ہے اور یہ ابھی کچھ دن اور چلے گا بھی۔۔ جن لوگوں کو امت شاہ ایک آنکھ نہیں بھاتے  و ہی لوگ اب امت شاہ کو انتخابی حکمت عملی کی مہارت کا سرٹیفیکیٹ بھی  دیں گے ۔ جو لوگ نتائج سے پہلے کانگریس صدر راہل گاندھی کی تعریف کے پل باندھ رہے تھے  وہ اب ان کی قائدانہ صلاحیت پر سوال بھی اٹھائیں گے ۔ ایسے لوگوں کو سوال اٹھانے سے پہلے یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی ہو گی کہ حکومت میں ہونے کے با وجود  کانگریس نے نہ صرف سب سے زیادہ ووٹ فیصد حاصل کیا ہے بلکہ اپنے سال 2013کے 36.6فیصد ووٹ سے بھی زیادہ ووٹ  حاصل کئے ہیں ۔ اس کے ساتھ یہ بھی بات ذہن میں رکھنی ہو گی کہ ایگزٹ پول کے نتائج کے بعد وزیر اعلی سدھا رمیہ سے دلت وزیر اعلی کے حق میں دست بردار ہونے کا بیان دلوانا اور  نتائج آنے کے بعد کریز سے باہر نکل کر فرنٹ فٹ پر بلے بازی کرنا اور بی جے پی کی پوری قیادت کو پریشانی میں ڈال دینے کا  سہر ا اگر کسی کے سر جاتا ہے تو وہ کانگریس صدر راہل گاندھی کے سر ہی جاتا ہے۔

ان سب کہ بیچ یہ ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ کرناٹک انتخابات کے نتائج  ملک کے آئندہ کے سیاسی مستقبل پر روشنی ڈالیں گے  وہ بالکل صحیح تھے ، کیونکہ کوئی مانے یا نہ مانے کرناٹک نتائج نے یہ اس پر روشنی ڈال دی ہے ۔ یعنی جن سیاسی  حالات سے آج کرناٹک دو چار  ہے ویسے  ہی حالات سال  2019کے عام انتخابات  کے بعد ملک کو درپیش آ سکتے ہیں ۔عام انتخابات میں بی جے پی سب سے زیادہ سیٹیں  حاصل کرنے والی پارٹی ضرور بن سکتی ہے لیکن کون وزیر اعظم ہو گا اور کس کے ساتھ کس کو اتحاد کرنا پڑے گا اس کی  تصویرایسی ہی ہوگی جیسے آج کرناٹک میں نظر آ رہی ہے۔ دیکھئے ! آگے آگے ہوتا ہے کیا ؟

سب سے زیادہ مقبول