مودی نے کی عوام کے زخموں پر نمک پاشی، کانگریس کا پلٹ وار

وزیر اعظم نریندر مودی

کانگریس نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے انٹرویو کے نام پر جو یکطرفہ بات کی ہے اس سے پھر ثابت ہو گیا کہ وہ ڈائیلاگ سے بچتے ہیں، وہ پریس کانفرنس کیوں نہیں کرتے جہاں سوال کرنے کی آزادی ہو۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے دو الگ الگ میڈیا اداروں کو دئے گئے انٹرویو کے بعد کانگریس نے ان پر حملہ بولا ہے۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے کہا کہ یوں کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نے مختلف معاملات پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا لیکن پہلے سے طے شدہ سوالات کے مقررہ جوابات کے دوران بھی وہ اپنی حکومت کی ایک بھی کامیابی یا پہل نہیں بتا پائے۔

کانگریس ترجمان نے کہا کہ اپنی یکطرفہ تقریر میں وزیر اعظم نے معاشیات اور ترقی پر سفید جھوٹ بولا اور سماجی مساوات کے درہم برہم ہونے پر گھڑیالی آنسو بہائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک وزیر اعظم سے یکطرفہ کہانی نہیں بلکہ سچائی سننا چاہتا ہے۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایک بار پھر لوگوں کو جھانسا دینے کی کوشش کی ہے۔

پون کھیڑا نے کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کو سنہرے خواب دکھائے تھے کہ 60 مہینے میں اچھے دن آ جائیں گے لیکن اب جبکہ ان کی حکومت کی مدت ختم ہونے جا رہی ہے اور وہ ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئے ہیں تو انہوں نے اپنے خوابوں کی تکمیل کی مدت بڑھا کر 2022 کر دی ہے یعنی انہیں اس کے لئے 108 مہینے کا وقت درکار ہے۔ پون کھیڑا نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی وزیر اعظم کو بتانا چاہتی ہے کہ ان کی حکومت اب 9 مہینے سے زیادہ نہیں چل پائے گی اور خواہ وہ حزب اختلاف کو کتنا ہی لعن تعن کریں، ملک کے لوگ بی جے پی اور نریندر مودی کو 2019 میں کرارا جواب دیں گے۔

کانگریس کی جانب سے ان تمام مدوں کو اٹھایا گیا جنہیں وزیر اعظم نے اپنے انٹرویو کے دوران اٹھایا تھا۔ کانگریس نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہر سال 2 کروڑ نوکریوں اور روزگار کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کی حکومت ہر سال محض کچھ لاکھ نوکریاں اور روزگار ہی فراہم کر سکی۔ وزیر اعظم نے 20 جولائی کو تحریک عدم اعتماد کے دوران اپنی تقریر میں کہا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں ایک کروڑ روزگار پیدا ہوئے۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ یہ صرف لوگوں کو گمراہ کرنے والا بیان تھا جس کا عام لوگ مذاق اڑا رہے ہیں۔

کانگریس نے کہا کہ صرف ای پی ایف او میں رجسٹریشن کا مطلب ہی روزگار یا نوکری کی دستیابی قرار نہیں دیا جا سکتا کیوںکہ اعداد و شمار صرف ان لوگوں کے ہوتے ہیں جو غیر رسمی سے رسمی شعبہ میں کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ پون کھیڑا نے بتایا کہ کوئی بھی ادارہ اگر 20 یا زائد افراد کو اپنے یہاں کام پر رکھتا ہے تو اصولاً اسے ای پی ایف او میں سبھی کا رجسٹریشن کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی ایسا ادارہ جس کے یہاں پہلے سے 19 ملازمین کام کر رہے تھے، اگر وہاں ایک اور شخص کو کام ملتا ہے تو اسے سبھی کا ای پی ایف او میں رجسٹریشن کرانا ہوتا ہے۔ یہاں 20 افراد کو نہیں بلکہ صرف ایک شخص کو نوکری حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی نے غیر رسمی سیکٹر کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور ایک غیر منظم اور جلد بازی میں لاگو کی گئی جی ایس ٹی نے ٹریڈر اور کاروباریوں کی زندگی دشوار بنا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے پہلے دو مہینے میں ہی کم از کم 1.26 کروڑ لوگوں کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ آئی ایل او کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس کے مطابق 2019 تک ملک کے 77 فیصد کام کاجی لوگوں کے سامنے نوکری کا خطرہ منڈلاتا رہے گا۔

کانگریس نے کہا کہ وزیراعظم ’مدرا رینڑ یوجنا‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور اگر وزیر اعظم کے الفاظ سے ہی حساب لگائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبہ کے 91 فیصد مستفیضین کو محض 23 ہزار کا قرض حاصل ہوا۔ پون کھیڑا نے سوال کیا کہ اس پیسہ سے کیا کوئی پکوڑے کی دکان کھولے گا؟

وزیر اعظم کی طرف سے جی ایس ٹی پر پوچھے سوال میں ڈکیت لفظ کا استعمال کئے جانے پر پون کھیڑا نے کہا کہ غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کرنا وزیر اعظم کی عادت بن چکی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے ایسے وزیر اعظم بن چکے ہیں جن کے قابل اعتراض اور غیر پارلیمانی تبصرہ کو ایوان کی کارروائی کے ریکارڈ سے نکالا گیا ہے۔ ایسے میں ان سے ڈکیت لفظ سننا زیادہ حیران نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں اب بھی جی ایس ٹی کی مخالفت ہو رہی ہے۔ ابھی گزشتہ مہینے ہی ملک بھر کے ٹرکوں کی ہڑتال تھی اور اس کا سب سے زیادہ اثر بی جے پی حکومت والی ریاستوں گجرات اور مہاراشٹر میں ہوا تھا۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ ہر چناؤ سے پہلے وزیر اعظم جی ایس ٹی شرحوں میں کچھ رد وبدل کرتے ہیں، کچھ سامان سستے کر دیتے ہیں تاکہ ووٹروں کو مائل کیا جاسکے۔

کانگریس نے بینکوں کے لگاتار بڑھتے این پی اے پر بھی وزیر اعظم پر حملہ بولا اور کہا کہ ان کی حکمرانی کے دوران بینکوں کے این پی اے میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ آسام کے این آر سی کو وزیر اعظم تقسیم کی پالیسی اور پولرائزیشن کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ کانگریس نے کہا کہ وزیر اعظم غیرملکیوں کو ملک سے بھگانے کے معاملہ میں ملک سے جھوٹ بولنا بند کریں۔ کانگریس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دئیے گئے جوابوں سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ 2005 سے 2013 کے دوران یو پی اے حکومت نے 82728 بنگلہ دیشیوں کو ملک سے باہر بھیجا جبکہ مودی حکومت کے دور اقتدار میں محض 1822 بنگلہ دیشیوں کو ہی ملک سے باہر بھیجا گیا ہے۔

کانگریس نے ایک مرتبہ پھر رافیل سودے کا معاملہ اٹھایا اور وزیر اعظم سے براہ راست سوال پوچھا کہ آخر ملک کو ہر طیارے کی قیمت کیوں نہیں بتائی جا رہی؟ آف سیٹ کانٹریکٹ ہندوستان ایئروناٹکس لمیٹڈ سے چھین کر ایک ایسی نجی کمپنی کو کیوں دیا گیا جسے اس علاقہ کا کوئی تجربہ نہیں ہے؟ 26 رافیل جنگی جہاز خریدنے سے پہلے حفاظتی معاملات کی کابینہ کمیٹی سے منظوری کیوں نہیں لی گئی۔

سب سے زیادہ مقبول