شجاعت بخاری کے مشتبہ قاتلوں کی تصویریں جاری

مشتبہ قاتلوں کی تصویریں

پولس کی طرف سے جاری کی گئیں تصویریں ظاہری طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل کی گئی ہیں۔

سری نگر: جموں وکشمیر پولس نے سینئر صحافی شجاعت بخاری اور ان کے دو ذاتی محافظین کے مشتبہ قاتلوں کی تصویریں جاری کردی ہیں۔ پولس کے ایک بیان میں کہا گیا ’پریس کالونی (سری نگر) حملے کے سلسلے میں پولس عوام الناس سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ان مشتبہ (حملہ آوروں) کی شناخت کریں۔ ان کو شناخت کیا جانا پولس تحقیقات کے لئے ضروری ہے‘۔

پولس کی طرف سے جاری کی گئیں تصویریں ظاہری طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل کی گئی ہیں۔ پولس بیان میں عوام الناس سے کہا گیا کہ اگر وہ ان مشتبہ افراد کو جانتے ہیں تو وہ ان سے متعلق معلومات پولس تھانہ کوٹھی باغ (سری نگر) یا پولس کنٹرول روم کشمیرکو فراہم کریں۔ پولس نے بتایا کہ معلومات فراہم کرنے والوں کا نام مخفی رکھا جائے گا۔

بتادیں کہ پریس کالونی سری نگر میں نامعلوم بندوق برداروں نے جمعرات کی شام قریب ساڑھے سات بجے سینئر صحافی شجاعت بخاری کی گاڑی پر فائرنگ کرکے انہیں اور ان کے دو ذاتی محافظین (پی ایس اوز) کو ہلاک کردیا۔ مہلوک پی ایس اوز کی شناخت ریاستی پولس کے ایس جی کانسٹیبل عبدالحمید ولد راج محمد ساکنہ ٹنگڈار کپواڑہ اور کانسٹیبل ممتاز احمد ولد رحمت علی ساکنہ خانپورہ کرناہ کپواڑہ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

ریاستی پولس نے گذشتہ رات ایک پریس بیان میں کہا کہ ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک جنگجویانہ حملہ تھا‘۔ تاہم کشمیر میں سرگرم جنگجو تنظیموں نے شجاعت بخاری کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس کے لئے بقول ان کے ’بھارتی ایجنسیوں‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ شجاعت بخاری انگریزی روزنامہ ’رائزنگ کشمیر‘، اردو روزنامہ ’بلند کشمیر‘، کشمیری روزنامہ ’سنگرمال‘ اور ہفتہ وار اردو میگزین ’کشمیر پرچم‘ کے مدیر اعلیٰ تھے۔

انہوں نے کئی برسوں تک قومی انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ کے ساتھ وابستہ رہنے کے بعد بالآخر 2008 میں ’رائزنگ کشمیر‘ شروع کیا تھا۔ شجاعت بخاری نے ’رائزنگ کشمیر‘ کی کامیاب شروعات کے بعد ’بلند کشمیر‘، ’سنگرمال‘ اور ’کشمیر پرچم‘ شروع کیا۔ ان کے حوالے سے خاص بات یہ تھی کہ وہ تینوں زبان (انگریزی، اردو اور کشمیر) میں لکھتے تھے۔ وہ کشمیری زبان کی ترقی و ترویج کے لئے بھی سرگرم تھے۔

سب سے زیادہ مقبول