جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے نوٹیفکیشن پر صدر جمہوریہ کی مہر

پارلیمنٹ میں مودی حکومت دفعہ 370 کے ایک سیکشن کو چھوڑ کر باقی سبھی سیکشنز کو جموں و کشمیر سے ختم کرنے کے لیے جموں و کشمیر تشکیل نو بل لے کر آئی تھی جس پر اب صدر جمہوریہ کی بھی مہر لگ گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کے ایک سیکشن کو چھوڑ کر باقی سبھی سیکشنز کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے نوٹیفکیشن پر دستخط کر دیئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم ہو گیا ہے۔ صدر جمہوریہ کے ذریعہ نوٹیفکیشن پر دستخط کرنے کے بعد اب جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کے سبھی قانون نافذ ہو گئے ہیں۔

جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے نوٹیفکیشن پر صدر جمہوریہ کی  مہر

غور طلب ہے کہ پیر کو راجیہ سبھا میں مودی حکومت دفعہ 370 کے ایک سیکشن کو چھوڑ کر باقی سبھی سیکشنز کو جموں و کشمیر سے ختم کرنے کے لیے جموں و کشمیر تشکیل نو بل لے کر آئی تھی جو پاس ہو گیا تھا۔ راجیہ سبھا سے پاس ہونے کے بعد اسے لوک سبھا میں رکھا گیا تھا۔ لوک سبھا سے بھی یہ بل بہ آسانی پاس ہو گیا۔ اس بل کی اپوزیشن پارٹیوں نے پرزور مخالفت کی تھی۔ لیکن جب ووٹنگ ہوئی تو بل کی حمایت میں زیادہ ووٹ پڑے اور یہ پارلیمنٹ سے پاس ہو گیا۔

اب ایسی ہوگی جموں و کشمیر اور لداخ کی شکل:

  • مرکز کے ماتحت ریاست ہوگی لداخ۔
  • لداخ میں کارگل اور لیہہ اضلاع ہوں گے شامل۔
  • جموں و کشمیر بھی بنے گی مرکز کے ماتحت ریاست۔
  • لداخ اور لیہہ کو چھوڑ بقیہ اضلاع جموں و کشمیر میں رہیں گے۔

بدلے گا گورنر کا درجہ:

  • موجودہ جموں و کشمیر ریاست کے گورنر اب مرکز کے ماتحت جموں و کشمیر اور مرکز کے ماتحت لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ہوں گے۔

راجیہ سبھا میں نمائندگی:

  • جموں و کشمیر کے چار موجودہ راجیہ سبھا اراکین مرکز کے ماتحت جموں و کشمیر کے اراکین ہوں گے۔ ان کی مدت کار حسب سابق رہے گی۔

لوک سبھا میں نمائندگی:

  • مرکز کے ماتحت جموں و کشمیر میں پانچ لوک سبھا سیٹیں ہوں گی۔
  • مرکز کے ماتحت لداخ میں ایک لوک سبھا سیٹ ہوگی۔

لیفٹیننٹ گورنر، جموں و کشمیر اسمبلی:

  • مرکز کے ماتحت پڈوچیری کے لیے نافذ دفعہ 239 اے میں موجود سہولیات مرکز کے ماتحت جموں و کشمیر کے لیے بھی نافذ ہوں گی۔ اسمبلی میں براہ راست انتخاب والی 107 سیٹیں ہوں گی۔ (جموں و کشمیر اسمبلی میں پہلے 111 سیٹیں تھیں، جن میں سے 87 کے لیے انتخاب ہوتے تھے۔)
  • پاکستان مقبوضہ کشمیر کی 24 سیٹیں خالی رہیں گی۔ (پہلے کی اسمبلی میں جس طرح خالی رہتی تھیں اسی طرح۔)
  • لیفٹیننٹ گورنر اسمبلی میں دو خاتون اراکین کو نامزد کر سکتے ہیں۔
  • اسمبلی کی مدت کار پانچ سال ہوگی (پہلے 6 سال تھی)۔
  • مرکزی قانون مرکز کے ماتحت جموں و کشمیر اور لداخ میں نافذ ہوں گے۔

اسمبلی حلقوں کی حد بندی کی تجویز:

  • اسمبلی سیٹوں کی تشکیل نو ہوگی اور سیٹوں کے نقشے تیار کیے جائیں گے۔
  • فی الحال جموں حلقہ میں 37 اسمبلی سیٹیں ہیں اور کشمیر میں 46 سیٹیں ہیں۔

دفعہ 370 نے کیا کچھ روک رکھا تھا:

  • حق اطلاعات کی عمل درآمد۔
  • تعلیم کا حق۔
  • کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی جانچ۔
  • کشمیر میں خواتین کے لیے شریعہ قانون سے آزادی۔
  • پنچایتوں کو اختیار۔
  • ہندو اور سکھ اقلیتوں کے لیے 16 فیصد ریزرویشن۔
  • ملک کی دیگر ریاستوں کے شہریوں کو کشمیر میں زمین خریدنے یا زمین کی ملکیت رکھنے سے۔
  • کشمیر کی ہندوستانی خواتین سے شادی کرنے والے پاکستانیوں کو ہندوستانی شہریت لینے سے۔
Published: 7 Aug 2019, 12:10 PM