ڈرانے، دھمکانے اور پابند سلاسل کرنے سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے: محبوبہ مفتی

پی ڈی پی صدر کے مطابق مجھے خدشہ ہے کہ موجودہ انتظامیہ جان بوجھ کر نوجوانوں کو جمہوریت کا حصہ بننے سے روک رہی ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ نوجوان بندوق اُٹھائیں تاکہ پھر وہ اُنہیں آسانی سے مار سکیں۔

محبوبہ مفتی/ تصویر آئی اے این ایس
محبوبہ مفتی/ تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بی جے پی سمیت سبھی سیاسی پارٹیوں کو جموں وکشمیر میں آزادانہ طور پر عوامی جلسے منعقد کرنے کی اجازت ہے لیکن پی ڈی پی واحد ایسی جماعت ہے جس کو عوامی رابط مہم شروع کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نہیں چاہتی کہ نوجوان جمہوریت کا حصہ بنے بلکہ ان کا منصوبہ ہے کہ وادی کشمیر کا نوجوان تشدد کا راستہ اختیا ر کریں۔ ان باتوں کا اظہار محبوبہ مفتی نے سری نگر میں اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارٹی کنونشن کے بارے میں ضلع انتظامیہ کو تحریری طور پر آگاہ کیا لیکن ہر بار اُنہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ اتوار کی صبح سے ہی سری نگر میں 15مقامات کو سیل کیا گیا تھا جہاں پر پی ڈی پی کارکنان کو روک کر اُن کی ہڈی پسلی ایک کردی گئی، موبائیل فون چھینے گئے اور یہاں تک کئی کارکنان اور لیڈروں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔


ان کا کہنا ہے کہ اننت ناگ میں آج عمر عبدا ﷲ کو عوامی جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دی گئی، ایک روز قبل اپنی پارٹی نے زڈی بل میں جلسہ منعقد کیا اور کانگریس لیڈران بھی وادی کے اطراف واکناف میں عوامی جلسے کر رہے ہیں لیکن پی ڈی پی واحد جماعت ہے جس سے سیاسی سرگرمیوں سے جان بوجھ کر باز رکھا جا رہا ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ اتوار کی صبح انتظامیہ نے چٹھی بھیجی کہ کووڈ کے پیش نظر پی ڈی پی کنونشن کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا پی ڈی پی کے لئے ہی کووڈ ہے دوسری جماعتوں کے لئے نہیں؟ محبوبہ مفتی نے کہا کہ چونکہ ہم بھاجپا کے جھوٹ سامنے لا رہے ہیں اسی لئے ہمار ے ساتھ اس طرح کا رویہ اپنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سرکار نوجوانوں کے تئیں دشمنانہ رویہ اپنا رہی ہیں جس کے کسی بھی صورت میں مثبت نتائج سامنے نہیں آسکتے ہیں۔


پی ڈی پی صدر کے مطابق مجھے خدشہ ہے کہ موجودہ انتظامیہ جان بوجھ کر نوجوانوں کو جمہوریت کا حصہ بننے سے روک رہی ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ نوجوان بندوق اُٹھائیں تاکہ پھر وہ اُنہیں آسانی سے مار سکیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیریوں خاص کر میرے ڈی این اے میں سرینڈر نہیں ہے۔ ڈرانے، دھمکانے اور جیلوں میں ٹھونسنے سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہو سکتے اور نہ ہی کھبی ہوں گے۔

محبوبہ مفتی کے مطابق موجودہ ایل جی انتظامیہ کی جانب سے پی ڈی پی کے تئیں اس طرح کا رویہ اپنانا سمجھ سے باہر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایل جی انتظامیہ یہ بتائیں کہ اگر سبھی پارٹیاں جلسے منعقد کر رہی ہیں تو پی ڈی پی پر ہی پابندی کیوں؟ انہوں نے کہا کہ اگر گپکار محفوظ نہیں تو وادی کی کون سی جگہ محفوظ ہے۔


محبوبہ مفتی نے کہا کہ مجھے جنوبی کشمیر جانے کی اجازت ہی نہیں دی جارہی ہے کھبی کھبار ہی والد کے مقبرے پر جاتی ہوں۔ محبوبہ مفتی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے جال میں نہ آئیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایل جی اور بی جے پی کا جھوٹ سامنے لا کر ہی دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نہ وادی کشمیر میں خون خرابہ بند نہیں ہوتا تب تک میں اپنی آواز بلند کرتی رہوں گی۔

حیدر پورہ تصادم کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ سرکار دہرا معیار پنا رہی ہیں۔ اُن کے مطابق ناگا لینڈ میں شہری ہلاکتوں کے بعد فوج کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا لیکن حیدر پورہ تصادم کے بعد سیکورٹی فورسز کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کے ڈی این اے میں انصاف شامل ہی نہیں اور اس کی مثال عامر ماگرے سے دی جاسکتی ہے جو بے گناہ ہو کر بھی اُس کی لاش ابھی تک اہل خانہ کے سپرد نہیں کی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔