’پاکستان دہشت گردوں کا حامی، اقلیتوں کا استحصال کرنے والا ملک‘

ہندوستان کے اقوام متحدہ مشن کی پہلی سکریٹری سنیہا دوبے نے جمعہ کو کہا کہ ’’پاکستان اس امید میں اپنے بیک یارڈ میں دہشت گردوں کی پرورش کرتا ہے کہ وہ صرف اس کے پڑوسیوں کو نقصان پہنچائیں گے۔‘‘

سنیہا دوبے، تصویر آئی اے این ایس
سنیہا دوبے، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ہندوستان کے خلاف بے بنیاد الزام لگائے ہیں، جس کے جواب میں ہندوستان نے پاکستان کو دہشت گردی کا محافظ اور اقلیتوں کا استحصال کرنے والا بتایا ہے۔ ہندوستان کے اقوام متحدہ مشن کی پہلی سکریٹری سنیہا دوبے نے جمعہ کو کہا کہ ’’پاکستان اس امید میں اپنے بیک یارڈ میں دہشت گردوں کی پرورش کرتا ہے کہ وہ صرف اس کے پڑوسیوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ ہمارا علاقہ، درحقیقت پوری، دنیا کو ان کی پالیسیوں کے سبب نقصان اٹھانا پڑا ہے۔‘‘

سنیہا دوبے نے کہا کہ ’’آج پاکستان میں اقلیتیں، سکھ، ہندو، عیسائی، اپنے حقوق کی لگاتار خلاف ورزی کے خوف اور ریاستی اسپانسرڈ استحصال میں جی رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی حکومت ہے جہاں یہودی مخالف کو اس کی قیادت کے ذریعہ معمول کی بات قرار دیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ اسے مناسب بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔‘‘


ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں عمران خان کے دعووں کا جواب دیتے ہوئے دوبے نے کہا کہ ’’اکثریت ایک سوچ ہے جسے پاکستان کے لیے سمجھنا بہت مشکل ہے، جو آئینی طور سے اپنے اقلیتوں کو ریاست کے اعلیٰ عہدوں کی خواہشات سے روکتا ہے۔ کم از کم وہ جو بول رہے ہیں اس کے بارے میں پہلے خود احتسابی کر سکتے ہیں، جو عالمی اسٹیج پر ان کا مذاق اڑا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’پاکستان کے برعکس ہندوستان اقلیتوں کی مناسب آبادی والا ایک اکثریتی جمہوریت ہے، جو صدر، وزیر اعظم، چیف جسٹس اور بری فوج سربراہان سمیت ملک میں اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہندوستان ایک آزاد میڈیا اور ایک آزاد عدلیہ والا ملک ہے جو ہماری آئین پر نظر رکھتی ہے اور اس کی حفاظت کرتی ہے۔‘‘

جہاں تک عمران خان کے ہندوستان کے ذریعہ ’جنگی جرائم‘ کے الزامات کا سوال ہے دوبے نے 1971 میں آزادی کی جنگ کے دوران اور اس سے پہلے بنگلہ دیش میں ہوئے قتل عام کو یاد کیا جس میں پاکستان کے ذریعہ 300000 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے اور سینکڑوں ہزار خواتین کے ساتھ عصمت دری ہوئی تھی۔ پاکستان اب بھی بنگلہ دیش کے لوگوں کے خلاف ایک مذہبی اور ثقافتی قتل عام کو انجام دینے کے لئے ہمارے علاقے میں نفریں ریکارڈ رکھتا ہے۔


دوبے نے کہا کہ ’’ہم نے کچھ دن قبل 11/9 کے دہشت گردانہ حملوں کی 20ویں سالگرہ کے سنگین مواقع کو نشان زد کیا۔ دنیا یہ نہیں بھولی ہے کہ اس بربریت پر مبنی واقعہ کے پیچھے ماسٹر مائنڈ اوسامہ بن لادن کو پاکستان میں پناہ ملی تھی۔ آج بھی پاکستان قیادت انھیں ’شہید‘ کی شکل میں یاد کرتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ آج بھی ہم نے پاکستان کے لیڈر کو دہشت گردانہ عمل کو صحیح ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہوئے سنا۔ دہشت گردی کا ایسا تحفظ جدید دنیا میں ناقابل قبول ہے۔‘‘

دوبے نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ پہلی بار نہیں ہے جب پاکستان کے لیڈر نے میرے ملک کے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد تشہیر کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعہ فراہم کیے گئے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کیا ہے، اور دنیا کا دھیان اپنے ملک کی افسوسناک حالت سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے جہاں دہشت گرد مفت پاس کا لطف لیتے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔