قومی

پاکستان میں قید نہال کی 6 سال بعد وطن واپسی، محبت کی خاطر پار کی تھی سرحد

حامد نہال انصاری کا خاندان انہیں لینے کے لئے امرتسر پہنچا، جہاں خاندان کے افراد نے دونوں ملکوں کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لئے آج کا دن عید کی طرح ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

پاکستان کی جیل میں 6 سال سے قید ہندوستانی شہری حامد نہال انصاری کو آخر کار رہائی مل گئی، آج ان کی وطن واپسی ہے۔ پاکستان میں دریائے راوی پار کرنے کے بعد انہیں ایک جیل وین کے ذریعہ واگھہ-اٹاری سرحد پر لایا گیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق نہال کو پاکستانی افسران نے ہندوستانی افسران کو سونپ دیا ہے اور انہیں 6 سال بعد سرزمین وطن پر قدم رکھنے کا موقع نصیب ہوا۔

حامد نہال انصاری کا خاندان انہیں لینے کے لئے امرتسر پہنچا جہاں خاندان کے افراد نے دونوں ملکوں کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آج کا دن عید کی طرح ہے۔

اس موقع پر حامد نہال کی ماں نے کہا، ’’یہ اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہے۔ ہم بہت چھوٹے لوگ ہیں اور خود کچھ نہیں کر پاتے۔ حکومت نے اس معاملہ کو مثبت نظریہ سے لیتے ہوئے پہلے ہی دن سے ہماری مدد کی ہے۔ سرکاری افسران کا رویہ بھی خاندان جیسا تھا۔ ہماری آواز کافی کمزور تھی لیکن میڈیا ہماری آواز بنی۔ کئی این جی او نے بھی ہماری مدد کی۔ اروند شرما نامی وکیل نے بغیر محنتانہ لئے ہمارا کیس سپریم کورٹ تک رکھا۔‘‘

واضح رہے کہ نہال کو 2012 میں ہندوستانی جاسوس قرار دے کر قید کر لیا گیا تھا۔ سال 2015 میں پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے انہیں مبینہ طور پر فرضی پاکستانی پاسپورٹ رکھنے کے معاملہ میں تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ نہال انصاری کی ماں نے اپنے بیٹے کی رہائی کے لئے وزیر خارجہ سشما سوراج کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق، پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہےکہ حامد نہال انصاری کو جیل سے رہا کر کے ہندوستان روانہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق انصاری ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے اور ان کے پاس سے جعلی دستاویزات بھی برآمد ہوئے تھے۔ تاہم اس موقع پر محمد فیصل نے نہال کی واپسی کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

کہا جاتا ہے کہ سماجی ویب سائٹس کے ذریعے انصاری کی کوہاٹ، پاکستان میں ایک خاتون سے دوستی ہوئی تھی۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق نہال کو 2012 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ جعلی دستاویزات کے ساتھ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

دسمبر 2015 میں ایک فوجی عدالت نے نہال کو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ حالانکہ نہال ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کوہاٹ میں رہنے والی اپنی خاتون دوست کی مدد کرنے پاکستان آئے تھے کیونکہ ان کی دوست مشکل میں تھی۔

پاکستان اور ہندوستان اکثر ایک دوسرے پر جاسوسی کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے ہندوستانی نیوی کے ایک سابق افسر کلبھوشن سنگھ یادو کو موت کی سزا سنائی تھی۔ ان پر جاسوسی اور صوبہ بلوچستان میں بد امنی پھیلانے کے الزامات تھے۔

سربجیت سنگھ بھی جاسوسی کے الزام میں پاکستانی جیل میں قید تھے۔ انہیں 1991 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ سربجیت سنگھ کو لاہور کی ایک جیل میں 2013 میں ساتھی قیدیوں نے قتل کر دیا تھا۔

Published: 18 Dec 2018, 6:05 PM