پی ڈی پی کو توڑنے کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے، بی جے پی کو محبوبہ کی دھمکی

کل تک بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہی محبوبہ مفتی کو اب پارٹی ٹوٹنے کے ڈر ستا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ڈی پی کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

سری نگر: کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنی سابقہ اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ پی ڈی پی کو توڑنے کی کوششوں کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے اندر بغاوت پر کہا کہ ہر گھر میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور ان اختلافات کو مل بیٹھ کر دور کیا جاتا ہے۔ محبوبہ مفتی جمعہ کی صبح’یوم شہدائے کشمیر‘ کے موقع پر اپنے پارٹی رفقاء کے ہمراہ مزار شہداء نقشبند صاحب میں حاضری دینے پہنچی تھیں ۔

محبوبہ نے کہا کہ اگر نئی دہلی (مرکزی حکومت) پی ڈی پی کو توڑنے اور عوام کے ووٹوں پر شب خون مارنے کی مرتکب ہوئی تو کشمیر میں نئے صلاح الدین (حزب المجاہدین سپریم کمانڈر سید صلاح الدین) اور یاسین ملک (جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ چیئرمین) جنم لے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ بی جے پی نے گذشتہ ماہ پی ڈی پی سے تین سالہ اتحاد توڑ کر ریاستی حکومت کو گرادیا تھا۔ حکومت کے گرنے کے بعد پی ڈی پی کے اندر بغاوت شروع ہوئی اور مبینہ طور پر کم از کم پانچ ممبران اسمبلی بالواسطہ طور پر ریاست میں بی جے پی حکومت بنانے کے لئے کام کررہے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے کہا ، ’’ہر جماعت میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ گھر میں بھی اختلافات پیدا ہوتے ہیں جن کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر دلی نے 1987 کی طرح یہاں کے لوگوں کے حقوق اور ووٹ پر ڈاکہ ڈالا اور اگر اسی قسم کی کوئی کوشش کی گئی تو جس طرح ایک صلاح الدین اور ایک یاسین ملک نے جنم لیا تھا ویسا ہی ہوا تو ، (ویسے ہی حالات پھر پیدا ہوسکتے ہیں)‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ سید صلاح الدین نے 1987 میں علیحدگی پسند جماعتوں کے اتحاد مسلم یونائیٹڈ فرنٹ کے ٹکٹ پر سری نگر کے حلقہ انتخاب امیرا کدل سے اسمبلی انتخاب لڑا تھا لیکن مبینہ طور پر انتخابی نتائج تبدیل کرکے ان کی ہار کا اعلان کیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر انہی حالات کے باعث صلاح الدین نے مسلح جدوجہد کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

صلاح الدین اس وقت کشمیر میں سرگرم جنگجو تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں قائم متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین ہیں۔

دریں اثنا محبوبہ مفتی نے 13 جولائی 1931 کے شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہی ریاست میں جمہوریت کی بنیاد ڈالی ہے۔

انہوں نے کہا ، ’’ہم یہاں اپنے شہدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے آئے ہیں۔ انہوں نے تاناشی کے خلاف ایک لڑائی لڑی ہے۔ انہوں نے یہاں جمہوریت کے قیام کے لئے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ یہ شہداء جموں وکشمیر کا اثاثہ ہیں۔ ‘‘

انہوں نے مزید کہا،’’ سب کو یہاں آکر شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے۔ جموں وکشمیر میں لوگوں کو حاصل حقوق انہیں ان شہیدوں کی بدولت ہی حاصل ہوئے ہیں۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول