’قوم کو اس کا وقار دلانے آیا ہوں‘، مظفر نگر میں اویسی کا پرجوش خطاب

اسدالدین اویسی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یو پی کا 19 فیصد مسلمان سیاسی طور سے محتاج ہے۔ میری زندگی کا ایک ہی مقصد ہے کہ یو پی کے غریب مسلمان کی ایک سیاسی آواز ہونی چاہیے۔‘‘

تقریب سے خطاب کرتے اسدالدین اویسی
تقریب سے خطاب کرتے اسدالدین اویسی
user

آس محمد کیف

مظفر نگر میں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی نے جلسہ کر انتخابی بگل پھونک دیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اویسی نے مظفر نگر کے سروٹ میں پارٹی کی جانب سے منعقد مرحوم اور استحصال زدہ سماج سمیلن میں شرکت کی اور کہا کہ ’’اب وقت آ گیا ہے جب مسلمان دوسری سیاسی پارٹیوں کے لیے دری نہ بچھائیں، بلکہ خود اپنے سر پر تاج سجائیں۔‘‘

اس دوران اویسی نے کسان تحریک کا چہرہ بن چکے کسان لیڈر راکیش ٹکیت کے مضبوط علاقہ مغربی یو پی میں مسلم ووٹوں کو اپنے حق میں کھینچنے کی کوشش کی۔ انھوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یو پی کا 19 فیصد مسلمان سیاسی طور سے محتاج ہے۔ میری زندگی کا ایک ہی مقصد ہے کہ یو پی کے غریب مسلمان کی ایک سیاسی آواز ہونی چاہیے۔‘‘ اویسی نے یہ بھی کہا کہ ’’لوک سبھا انتخاب میں جاٹوں نے بی جے پی کو ووٹ دے کر جتایا تھا، اور اب جاٹ اجیت سنگھ کو ہرا کر انھیں چھوڑ سکتے ہیں تو مسلمان پرانی روایت کیوں نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ جب ملک میں چودھری چرن سنگھ کی پارٹی ہے، دوسرے سماج کے لیڈروں کی پارٹی ہے تو پھر مسلمانوں کی کوئی سیاسی پارٹی آخر کیوں نہیں ہو سکتی۔

’قوم کو اس کا وقار دلانے آیا ہوں‘، مظفر نگر میں اویسی کا پرجوش خطاب

اسدالدین اویسی نے مظفر نگر میں 2013 میں ہوئے فسادات کا تذکرہ کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی پر بھی حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے پارٹی تمام وعدے کرتی ہے، لیکن مظفر نگر فساد کے دوران سماجوادی پارٹی حکومت میں 70 مسلم اراکین اسمبلی تھے پھر بھی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ مظفر نگر فساد میں 50 ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو اپنی جان بچانے کے لیے گھر سے بے گھر ہونا پڑا۔ وہ مسلمان آج تک اپنے گھر نہیں لوٹ پائے۔

اس تقریب میں اویسی نے سی اے اے اور این آر سی کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ مظفر نگر سے بڑی تعداد میں این آر سی کے خلاف آواز اٹھی تھی۔ ہم این آر سی نافذ کر مسلمانوں کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر ملک میں این آر سی نافذ ہوتا ہے تو وہ مظفر نگر میں آ کر مظاہرہ کریں گے۔ یو پی کے مسلمانوں کو جمہوری طریقے سے انصاف دلائیں گے۔

’قوم کو اس کا وقار دلانے آیا ہوں‘، مظفر نگر میں اویسی کا پرجوش خطاب

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخاب میں پارٹی اپنے امیدواروں کو اتارے گی۔ جس سماج کے پاس اس کے لیڈر ہیں، انہی کے مسائل کو حل کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ہو رہی ناانصافی کی بات ہوتی ہے تو مسلم کا ووٹ لے کر اقتدار میں بیٹھنے والوں کا مائک بند ہو جاتا ہے۔ اویسی نے یہ بھی کہا کہ سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، کانگریس اور آر ایل ڈی کے لیے کب تک مسلمان دری بچھاتے رہیں گے۔ اب وقت سر پر سیاسی تاج سجانے کا ہے۔

اسدالدین اویسی نے مسلمانوں سے اپنی سیاسی حیثیت قائم کرنے کے لیے ان کے ساتھ آنے کی گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اپنی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے لیے ووٹ کریں۔ اویسی نے یہ بھی کہا کہ ان کی زندگی کا مقصد مسلمانوں کی سیاسی طاقت بڑھانا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔