مسلم دوست کے گھر کھایا کھانا تو آگئی شامت، کرائی گئی ’آتما کی شدھی‘

آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی گاؤں کے لوگوں میں ذات پات، مذہبی تعصب ختم نہیں پوا ہے، ایسا ایک واقعہ آسام سے سامنے آیا ہے، ایک نوجوان نے مسلم دوست کے گھر کھانا کھایا اس سے گاؤں کے بزرگ شدید ناراض ہوگئے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

آسام کے دارنگ ضلع کے داگياپارا گاؤں کے ایک شخص جیون کلیٹا نے فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی ،جس میں ایک نوجوان کے بارے میں یہ لکھا کہ اس نے ایک مسلم خاندان کے ساتھ کھانا کھایا ہے، اس خبر کے وائرل ہونے کے بعد اس گاؤں کے بزرگ اس قدر ناراض ہوگئے، معاملہ نے اتنا طول پکڑ لیا کہ اس کے لئے گاؤں میں ایک پنچایت بلائی گئی۔

در اصل واقعہ یہ ہے کہ اسکول کے سبھی بچے تہوار کے موقع پر ایک مسلم دوست کے گھر گئے تھے، اسی دوران کھانے کا وقت ہوگیا تو مسلم دوست نے ان سب کو کھانے کے مدعو کیا، دوسرے بچوں نے تو کھانا کھانے سے انکار کر دیا، لیکن ایک بچے نے مسلم خاندان کے ساتھ کھانا کھالیا۔

پنچایت میں گاؤں کے بزرگوں نے کہا کہ مسلم خاندان کے ساتھ کھانا کھا کر نوجوان نے اپنے گاؤں کی روایت کوتوڑا ہے، اس لئے اس کی روح کو(آتما کی شدھی) پاک کرنے کی ضرورت ہے، گاؤں کے بزرگوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نوجوان سے کہا کہ وہ پورے گاؤں کی ضیافت بھی کرے، جبھی اس کو معاف کیا جائے گا۔

گاؤں والوں نے نوجوان کو دھمکی دی کہ اگر گاؤں والوں کی ضیافت نہیں کی تو اسے اور اس کے گھر والوں کو گاؤں سے باہر نکال دیا جائے گا،اس حکم نامے سے نوجوان گھبرا گیا، کیونکہ اس کے والدین کافی دنوں سے بیمار چل رہے ہیں ، جرمانہ لگنے سے اس کی پریشانیاں اور بڑھ جائیں گی، کیونکہ اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ پورے گاؤں کی دعوت کر سکے۔

میڈیا میں خبر آنے کے بعد گاؤں والوں نے اس بات سے صاف انکار کر دیا کہ نوجوان سے کسی طرح کی ضیافت کے بارے میں نہیں کہا گیا تھا ، انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ چونکہ نوجوان نے مسلم خاندان کے ساتھ کھانا کھایا تھا اس لئے اس کی روح کو (آتما کی شدھی) ضرور پاک کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔

Published: 22 Oct 2018, 7:09 PM