اتراکھنڈ حکومت کے چیف سکریٹری کو توہین عدالت معاملے میں ہائی کورٹ کا نوٹس جاری

عرضی گزاروں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسے مذہبی مقامات کے معاملے میں کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی ہے۔ حکومت آئندہ انتخابات کے پیش نظر ایسی عمارتوں کو نہیں ہٹا رہی ہے۔

 تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نینی تال: اتراکھنڈ میں عوامی مقامات پر غیر قانونی مذہبی ڈھانچوں کو ہٹائے جانے کے معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے کے معاملے میں ہائی کورٹ نے بدھ کو ریاست کے چیف سکریٹری اوم پرکاش کو نوٹس جاری کیا۔ جسٹس شرد کمار شرما کی عدالت کی جانب سے یہ نوٹس وکیل ویویک شکلا کی جانب سے دائر توہین عدالت کی سماعت کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

عرضی گزاروں کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے 29 ستمبر ,2009 کو حکم جاری کرکے سبھی ریاستی حکومتوں کو عوامی مقامات پر تعمیر کیے گئے غیر قانونی مذہبی ڈھانچوں (مندر، مسجد، گرودواروں) کو ہٹائے جانے کے حکم جاری کیے تھے۔ ان ڈھانچوں کو ہٹائے جانے کی ذمہ داری ریاست کے چیف سکریٹریوں کو سونپی گئی تھی۔


عرضی گزاروں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ عدالت کی جانب سے بھی اسی سال حکم جاری کرکے عوامی مقامات پر ایسے سبھی ڈھانچوں اور عمارتوں کو 23 مارچ تک ہٹائے جانے کی ہدایت سبھی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو دی گئی تھی، لیکن ریاستی حکومت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کر پائی ہے۔

عرضی گزاروں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسے مذہبی مقامات کے معاملے میں کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی ہے۔ حکومت آئندہ انتخابات کے پیش نظر ایسی عمارتوں کو نہیں ہٹا رہی ہے۔ وکیل ویویک شکلا نے بتایا کہ معاملے کو سننے کے بعد عدالت نے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کیا ہے۔اب اس معاملے کی سماعت چار ہفتے بعد ہوسکے گی۔


واضح رہے کہ اسی معاملے میں ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی زیر التوا میں ہے۔ حکومت کی جانب سے حال ہی میں حلف نامہ پیش کرکے کہا گیا کہ سبھی ضلعوں سے عوامی مقامات پر 2009 کے بعد بنائے گئے غیر قانونی مذہبی ڈھانچوں کو ہٹا لیا گیا ہے۔ ہری دوار ضلع میں آبپاشی محکمے کی زمین پر بنائے گئے چار ڈھانچوں کو نہیں ہٹایا جا سکا ہے۔

حکومت کی جانب سے مہا کمبھ کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ہٹانے کےلئے مئی تک کا وقت مانگا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اودھم سنگھ نگر میں بھی ایک مذہبی ڈھانچے کو عدالت میں معاملہ زیر التوا ہونے کی وجہ سے نہیں ہٹایا جا سکا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔