کیرالہ: بارش، لینڈسلائڈنگ اور سیلاب سے بتاہی، حالات ہنگامہ خیز

کیرالہ کے کئی حصوں میں پل بہہ گئے ہیں، ریلوے ٹریک کے نیچے سے مٹی کھسکنے کے سبب ٹرینوں کی نقل حمل بھی متاثر ہو گئی ہے۔

کیرالہ میں سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ کے بعد حالات ہنگامہ خیز بنے ہوئے ہیں۔۔ بھاری بارش کے درمیان انتظامیہ نے ایشیا کے سب سے بڑے پیلابولک ڈیم ایڈوکی سمیت 22 ڈیموں کے دروازے کھول دئے ہیں۔ صوبہ بھر میں اب تک 26 افراد جان بحق ہو چکے ہیں۔

ریاست بھر میں بھاری بارش کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور ہزاروں گھر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ راحت اور بچاؤ کے کام میں این ڈی آر ایف، فوج اور بحریہ کی ٹیموں کو تعینات کیا گیا ہے۔ لوگوں کو محفوظ ٹھکانوں پر پہنچانے کے لئے ہیلی کاپٹر کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔ ریاست کے کئی حصوں میں پل بہہ گئے ہیں۔ ریلوے ٹریک کے نیچے سے مٹی کھسکنے کے سبب ٹرینوں کی نقل حمل پر اثر پڑا ہے۔

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پی وجین نے کہا ہے کہ ’’بھاری بارش کے بعد سیلاب سے صورت حال سنگین ہو گئی ہے۔ بھاری بارش کے سبب 22 ڈیموں کے شٹر کھولنے پر ہمیں مجبور ہونا پڑا ہے۔ ایسے حالات سالوں میں کبھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ ہنگامی اجلاس کے بعد ریاست میں سیلاب سے زیادہ متاثرہ چھ اضلاع میں کنٹرول روم کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘

ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق 11 لوگوں کی اڈوکی میں موت واقع ہوئی ہے۔ ملپورم ضلع میں 5 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ویاناڈ میں 3، کنور میں 3 اور کوجھیکوڑ میں ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔ ہنگامی حالات میں کم از کم 3 ہزار افراد کو محفوظ ٹھاکانوں پر پہنچایا گیا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول