گیان واپی مسجد: ہندو فریق کا مقدمہ قابل سماعت قرار دئے جانے کے بعد آج پہلی سماعت

گیان واپی مسجد کے خلاف ہندوؤں کے مقدمہ کو قابل سماعت قرار دئے جانے کے بعد وارانسی کی ضلع عدالت میں آج پہلی سماعت ہونے جا رہی ہے، مسلم فریق نے فیصلہ کو عدالت عالیہ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے

وارانسی کی گیان واپی مسجد، تصویر آئی اے این ایس
وارانسی کی گیان واپی مسجد، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

وارانسی: گیان واپی مسجد کے خلاف ہندو فریق کے دعوے پر جمعرات یعنی آج وارانسی کی ضلعی عدالت میں سماعت ہونے جا رہی ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران مسلم فریق کی اس درخواست کو منسوخ کر دیا گیا، جس میں عبادت گاہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے مقدمہ کو خارج کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔

عدالت نے مقدمہ کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے اگلی سماعت کے لئے 22 ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ ضلعی عدالت کے فیصلے کے بعد اس معاملے میں یہ پہلی سماعت ہے، تاہم مسلم فریق نے عدالت میں درخواست پیش کرتے ہوئے سماعت 8 ہفتوں کے لئے ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


مسلم فریق نے عدالت میں اپنی درخواست میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالت سماعت شروع کرتی ہے تو پہلے یہ طے کیا جائے کہ سماعت کن پہلوؤں پر کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی مقدمہ اس کا خاکہ بھی طے کیا جائے۔ ان تمام مسائل کے درمیان وارانسی کی ضلعی عدالت آج اس معاملہ کی سماعت کرنے جا رہی ہے۔

مسلم فریق نے عبادت گاہ قانون کی بنیاد پر دائر کی گئی درخواست کو منسوخ کرنے اور ہندو فریق کے مقدمہ کو قابل سماعت قرار دینے کے ضلعی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ مسلم فریق کے وکیل معراج الدین صدیقی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ درست نہیں ہے اور اس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ ساتھ ہی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیا۔ پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری جنرل مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ 1991 میں پارلیمنٹ نے منظوری دی تھی کہ بابری مسجد کے علاوہ تمام مذہبی مقامات پر 1947 کا جمود برقرار رکھا جائے گا اور اس کے خلاف کوئی دعویٰ درست نہیں ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔