سورت: بچھڑے لے کر جارہے مسلم نوجوان کی پٹائی

متاثرہ نوجوان کے ہاتھ اور سر کے کئی حصوں پر زخم لگے ہیں۔ پولس نے حملہ آوروں کے خلاف معاملہ درج کر لیا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کے لئے چھاپے ماری کی جا رہی ہے۔

مودی حکومت کے اقدار میں آنے کے ساتھ ہی دلتوں اورمسلمانوں پر جو ظلم و ستم کا سلسلہ شروع ہوا تھا وہ کسی صورت بند ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گجرات کے سورت ضلع میں منگل کے روز (12جون) کچھ لوگوں نے ایک مسلم نوجوان کی پٹائی کی۔ مار پیٹ کی وجہ بنے وہ بچھڑے جنہیں وہ وین میں لے جا رہا تھا۔ پٹائی کرنے والے لوگ مبینہ طور پر گایوں اور بچھڑوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ متاثرہ نوجوان کی شکایت پر پولس نے 4 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔

متاثرہ نوجوان کی شناخت ولساڑ شہر کے موٹا تائیوان کے رہائشی محب ابو بکر کے طور پر ہوئی ہے۔ شکایت کے مطابق منگل کے روز اشرولی گاؤں ، مہوا تعلقہ سے 6 بچھڑوں کو وین میں لے جا رہا تھا۔ آگے مہوا بردولی روڈ پر پٹرول پمپ کے پاس اسے 4 نوجوان ملے ۔ وین کی روشنی میں ان چاروں کے ہاتھوں میں ڈنڈے دیکھ کر محب نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن وہ بھاگ نہ سکا۔

چاروں نامعلوم افراد نے اسے پکڑا اور جم کر ڈنڈوں سے اس کی پیٹائی کرنے لگے۔ کسی صورت جان بچانے کے لئے گنے کے کھیت کی طرف بھاگا۔آٹو پکڑ کر کسی طرح سورت کے نیو سول اسپتال پہنچا، ڈاکٹروں نے اس کی حالت دیکھ کر بردولی پولس کو مطلع کیا ، جس کے بعد پولس نے محب کا بیان درج کیا۔ پولس نے آئی پی سی کی دفعہ 323، 324 اور 114 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ جائے وقوعہ سے متاثرہ کی گاڑی برآمد کر لی گئی ہے لیکن بچھڑے لاپتہ ہیں۔

بردولی پولس کے سب انسپکٹر نے بتایا کہ ’’محب کے سر اور ہاتھ پر کئی جگہ زخم کے نشان ہیں ، تاہم اس کی جان اب خطرے سے باہر ہے۔ واقعہ کی مزید تفصیلات اس لئے نہیں مل پار رہی کیوں کہ وہ ابھی بول نہیں پا رہا۔ ملزمان کو پکڑنے کے لئے چھاپے ماری کی جا رہی ہے۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول