گراؤنڈ رپورٹ میرٹھ: ’حکومت جنہیں فسادی بتا رہی ہے، وہ ملک کے لئے قربان ہو گئے‘

شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کے درمیان پیدا تشدد میں اب تک میرٹھ کے 6 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان سبھی کے گھروں میں بے بسی کا عالم ہے۔ مہلوکین کے اہل خانہ ان ہلاکتوں کو پولس کا ظلم قرار دے رہے ہیں

تصویر آس محمد کیف
تصویر آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

میرٹھ: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف وسیع پیمانے پر تشدد کے بعد اتر پردیش میں اب تک کل 21 افراد کی موت ہو چکی ہے اور ہلاک شدگان میں میرٹھ کے 6 افراد شامل ہیں۔ میرٹھ کے ان ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے قومی آواز کے نمائندہ کو تنگ گلیوں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔ دو کنبے کرایے پر رہتے ہیں اور دو کے مکانات میں دروازے اور پردے تک نہیں ہیں۔ وہیں، ایک کا گھر محض 50 گز جگہ پر بنا ہوا ہے اور اس میں ایک درجن افراد رہتے ہیں۔ تمام ہلاک شدگان مزدوری کر کے اپنے خاندان کی پرورش کرتے تھے۔ ہلاک ہونے والا ایک شخص غیر شادی شدہ ہے۔ یہ تمام اموات میرٹھ کے لیساڑی گیٹ تھانہ علاقہ میں ہوئیں۔

تشدد میں 75 سالہ محمد منشی نے اپنے 42 سالہ بیٹے کو کھویا ہے، جسے حال ہی میں اپنی بیٹی کی شادی کرنی تھی۔ 60 سالہ نسیمہ نے اپنے 22 سالہ پوتے کو کھو دیا، جو گھر کا سب سے زیادہ کمانے والا لڑکا تھا اور 25 سالہ عمرانہ کے شوہر کی چھاتی پھاڑ کر نکلی ایک گولی نے گود میں لیٹے اس کے 6 ماہ کے بیٹے کو یتیم بنا دیا۔

مقامی رہائشی محمد آزاد (40) کہتے ہیں ’’تاریخ شاہد ہے کہ میرٹھ کی سرزمین انقلابی ہے اور جنگ آزادی میں یہاں کے لوگوں نے بھرپور تعاون دیا تھا۔ کل آئین کی تشکیل کے لئے لوگوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا اور آج آئین کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کر رہے ہیں۔‘‘

ہلاک ہونے والے آصف کے سالے عمران نے بتایا کہ گولی اس کے بہنوئی کو پیٹھ میں لگی تھی۔ عمران کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے پولس کو فائرنگ کرتے دیکھا۔ اس نے مزید بتایا کہ ’’جب فائرنگ ہوئی تو ہم سب خوف کی وجہ سے چھپ گئے تھے۔ نجی اسپتالوں نے ان کے علاج سے انکار کر دیا اور جب تک وہ سرکاری اسپتال میں پہنچے انہوں نے دم توڑ دیا۔‘‘ یہاں کی ’گھنٹے والی گلی‘ کے رہائشی مقتول آصف کے 3 بچے ہیں اور والدین کی پہلے ہی موت ہو چکی ہے، جبکہ اس کا کوئی بھائی یا بہن نہیں ہے۔ وہ یہاں پر پرانے ٹائروں پر ربڑ چڑھانے کا کام کرتا تھا۔ عدت میں بیٹھی اس کی بیوہ عمرانہ نے ہمارے ساتھ آئی ایک خاتون صحافی سے کہا کہ ’’موت تو برحق ہے لیکن میرے شوہر نے شہادت دی ہے۔ یہ ظلم ہے اور میرا خدا اس کا انتقام ضرور لے گا۔‘‘

یہاں ایک گلی کا نام ہے جلی گلی۔ اس گلی میں ظہیر (44) کا گھر ہے۔ ظہیر کو بھی گولی کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ظہیر کی ایک 20 سالہ بیٹی ہے جس کا کہنا ہے کہ "ابو نے کہا تھا کہ وہ بیڑی لینے جا رہے ہیں، کچھ دیر کے لئے گلی میں شور برپا ہوا تھا۔ ہم سب خوف زدہ تھے، فائرنگ کی آواز آ رہی تھی۔"

ظہیر کے ایک قریبی دوست شمیم کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کے چشم دید ہیں۔ شمیم کے مطابق ’’ظہیر گلی کے باہر چبوترے پر بیٹھا بیڑی پی رہا تھا۔ اچانک وہ نیچے گر گیا، اسے گولی لگی تھی۔ پولس والے گلی کے اندر داخل ہو گئے تھے اور دنادن گولیاں برسا رہے تھے۔‘‘ شمیم کے مطابق انہوں نے 100 نمبر ڈائل کیا، ایمبولینس بھی منگائی لیکن کوئی مدد نہیں ملی۔ آخر میں ایک منی ٹرک میں ڈال کر ظہیر کو میڈیکل اسپتال لے جایا گیا۔ زخموں کی تاب نہ لاکر ظہیر نے دم توڑ دیا۔ اسپتال میں موجود پولس والوں نے الٹے ہمیں ہی دھمکایا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش دے دی گئی لیکن پولس نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ لاش کو جلد از جلد دفن کر دینا۔ گھر کے آٹھ دس لوگوں نے علی الصبح 6 بجے ظہیر کو سپرد خاک کر دیا۔

واضح رہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد گزشتہ 20 دسمبر کو جمعہ کی نماز کے بعد سڑکوں پر اتر آئی اور پولس سے تصادم ہو گیا تھا۔ پولس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے پتھراؤ کیا، آتش زنی کی، جس کے بعد پولس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ اس دوران فائرنگ بھی کی گئی۔ تشدد کے دوران 6 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ تمام ہلاکتیں پولس کی گولی لگنے سے ہوئی ہیں۔

محلہ گلزار ابراہیم کی کھتہ والی گلی میں جاں بحق ہونے والے محسن ملک کے بڑے بھائی محمد عمران کا کہنا ہے کہ ’’میرا بھائی گھر سے بھینس کے لئے چارہ لینے کے لئے گیا تھا۔ گولی لگنے کے بعد وہ سڑک پر گر گیا۔ گولی اس کے سر پر لگی تھی۔ اسے اسپتال لے جایا گیا لیکن بچایا نہیں جا سکا۔ اس کی ایک بیٹی ہے۔ ہم 6 بھائیوں میں وہ سب سے زیادہ صحت مند تھا۔ وہ بے گناہ تھا، اسے تو سیاسی باتوں میں دلچسپی تک نہیں تھی اور نہ ہی وہ مظاہرے میں شامل تھا مگر پولس نے اسے فسادی بتا دیا۔ اخبار بھی اسے فسادی بتا رہے ہیں۔“

ایک اور ہلاک ہونے والے نوجوان محسن کے چچا ایوب کہتے ہیں کہ ’’بھلے ہی سرکار ہمارے بچوں کو فسادی بتائے اور اخبارات دنگائی لکھیں لیکن ہمیں فخر ہے کہ ان کی قربانیاں ملک کے لئے کارآمد ثابت ہوں گی! مرنے والے کوئی مجرم نہیں تھے۔ وہ سب مزدور تھے۔ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے۔‘‘

گولی لگنے سے علیم (21) بھی ہلاک ہوا ہے، جوکہ ’پاور لوم‘ (کپڑے بننے کا کارخانہ) میں کام کرتا تھا۔ اس کی شادی کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا تھا۔ گھر کی حالت بہت ہی خراب ہے۔ دروازے کے نام پر ایک کپڑا لٹکا ہوا ہے۔ علیم کی موت سے اس کے بوڑھے والد اور معذور بھائی پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے۔

اسی مقام پر مقتول آصف انصاری کا بھی مکان ہے، جو کہ ہلاک ہونے والے افراد میں واحد غیر شادی شدہ نوجوان تھا۔ میرٹھ پولس کا الزام ہے کہ 22 سالہ آصف تشدد کی سازش میں ملوث تھا۔ پولس کا کہنا ہے کہ ’’تشدد منصوبہ بند انداز میں بھڑکایا گیا اور اس کے لئے دہلی سے لوگوں کو بلایا گیا تھا اور خود آصف بھی دہلی سے آیا تھا۔‘‘ جبکہ آصف کی والدہ کا کہنا ہے ’’میرا بچہ 5 سال سے دہلی میں آٹو رکشہ چلایا کرتا تھا۔ وہ ہر جمعہ کو ہم سے ملنے آتا تھا۔ اس دن وہ کافی دیر تک گھر نہیں آیا، بس اس کی تصویر موبائل میں آئی۔‘‘ آصف انصاری کے اہل خانہ کے مطابق ابھی تک پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی نہیں دی گئی ہے۔ انہیں یہ تک نہیں معلوم کہ پولس نے رپورٹ بھی درج کی ہے یا نہیں! گھر کی پرورش کی ذمہ داری 22 سالہ آصف کے ہی کاندھوں پر تھی۔ اہل خانہ سوال کرتے ہیں کہ اگر وہ مظاہرے میں شامل بھی تھا تو بھی کیا پولس کو سیدھے اس پر گولی چلانی چاہئے تھی؟

ان میں سے کسی بھی ہلاک ہونے والے شخص کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے جس کی بنا پر تکنیکی طور پر یہ کہا جا سکے کہ موت پولس کی گولی سے ہوئی ہے۔ اترپردیش کے ڈی جی پی پہلے ہی پولس فائرنگ میں ہلاکت کی تردید کر چکے ہیں۔ تاہم بجنور کے سلیمان کی پولس کی گولی سے موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ بجنور پولس کے مطابق پولس نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی!

میرٹھ کے پولس کپتان اجے ساہنی کا دعویٰ ہے کہ ’’ہنگامہ آرائی منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی تھی اور مظاہرین فائرنگ کر رہے تھے۔ پی ایف آئی (پاپیولر فرنٹ آف انڈیا) نوجوانوں کو بھڑکا رہی تھی۔ اس تنظیم سے وابستہ کچھ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولس کے پاس ویڈیو فوٹیج موجود میں، جن میں ہنگامہ آرائی کرنے والے لوگوں کو پولس پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لہذا، ہلاک ہونے والے لوگوں کو کس کی گولی لگی یہ صاف طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ تفتیش کے بعد ہی حقیقت سامنے آئے گی۔‘‘

Published: 27 Dec 2019, 2:11 PM
next