قومی

حکومت ایودھیا تنازع کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے: جماعت اسلامی ہند

جماعت اسلامی کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ ایودھیا میں بابری مسجد سے متعلق زمین کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ میں داخل کی گئی عرضی عدل و انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے اوپر کھڑے ہوئے ہندو کار سیوک
6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے اوپر کھڑے ہوئے ہندو کار سیوک

یو این آئی

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہندنے ایودھیا تنا زع کے متعلق حکومت کی رویے کی نکتہ چینی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کہ مودی حکومت انتخابی فائدے کے لئے اس مسئلے کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے آج یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایودھیا میں بابری مسجد سے متعلق زمین کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ میں د ا خل کی گئی عرضی عدل و انصاف کے تقاضوں سے متصادم اور ملکی مفادات کے خلاف ایک جذباتی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت اچھی طرح سے معلوم ہے کہ بابری مسجد سے متعلق مختلف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ہمیشہ سے یہ روایت ہے کہ کسی بھی مقدمے کے فریقین عدالت کے فیصلے کا انتظار کرتے ہیں اور جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس کو قبول بھی کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ بات اپنے آپ ہی حیرت انگیز اور ناقابل فہم ہو جاتی ہے کہ ہندوستان کی جمہوری اور سیکولر حکومت بابری مسجد کے مقدمے میں خود فریق کیوں بن رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے اس عجیب و غریب رویہ سے لوگ یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہوں گے کہ وہ عوام کو انصاف فراہم کرنے کی اپنی اہم ذمہ داری سے اعراض برت کر آئندہ پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر کچھ ووٹرس کو سبز باغ دکھا کر انہیں خوش کرنا اور سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

سلیم نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئنی تقاضوں کی خلاف ورزی نہ کرے اور مذکورہ 67ایکٹر زمین پربابری مسجد آراضی کی ملکیت کا فیصلہ ہونے تک جو عدالتی اسٹے ہے اس کی پاسداری کرتے ہوئے ایسا کوئی اقدام نہ کرے جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف اور حکومت کے سلسلے میں شک و شبہ پیدا کرنے والا نیز دنیا میں ملک کی تصویر بگاڑنے والا ہو۔

جماعت اسلامی کے رہنما نے حکومت پرزور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں امن و امان اور عدل و انصاف قائم کرنے کے سلسلے کی اپنی ذمہ داری کو زیادہ شدت سے محسوس کرے اور ملک کے حقیقی فلاح و بہبود اور پر سکون و خوش حال بنانے کا اپنا فریضہ ادا کرے۔