گورنر مغربی بنگال جگدیپ دھنکر کو مرشدآباد میں دکھائے کالے جھنڈے

مرشدآباد ٹی ایم سی کے نائب صدر اشوک داس نے کہا کہ عوام نے اس شخص کو کالے جھنڈے دکھائے ہیں جو گورنر کے عہدہ کا سیاسی استعمال کر رہے ہیں۔ ایک طرف گورنر تو دوسری طرف بی جے پی صدر کا کردار ادا کر رہے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کولکاتا: مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکر کو آج مرشدآباد کے دمکل میں عوامی احتجاج، نعرے بازی اور کالے جھنڈوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس پر ناراضگی ظاہر کرنے کے بجائے جگدیپ دھنکر نے کار سے ہاتھ نکال کر لوگوں کا خیر مقدم کیا۔ گورنر اور ریاستی حکومت کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہے۔

جادو پو یونیورسی میں مرکزی وزیر بابل سپریہ کے خلاف نعرے بازی کے بعد سے ہی دونوں کے درمیان اختلافات گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ اس کے بعد سے ہی کئی ایسے ایشوز بشمول ہیلی کاپٹر دینے سے انکار، ریڈر روڈ پر منعقد کارنیوال میں گورنر کو غیر اہم جگہ پر بیٹھائے جانا وغیرہ سے گورنر اور ریاستی حکومت کے درمیان اختلافات گہرے ہوگئے ہیں۔ وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے بھی گورنر کی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بی جے پی کے آدمی ہیں۔ گورنر کی دلیل ہے کہ وہ ریاست کے آئینی سربراہ ہیں، وہ یہاں بنگال کے عوام کی خدمت کرنے کے لئے آئے ہیں اور اس سے کوئی بھی نہیں روک سکتا ہے اور نہ ہی بنگال کا دورہ کرنے کے لئے انہیں کسی اجازت کی ضرورت ہے۔


سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گورنر کو کالے جھنڈے دکھائے جانا ناقابل قبول بات ہے۔ مرشدآباد ترنمول کانگریس کے نائب صدر اشوک داس نے کہا کہ عوام نے اس شخص کو کالے جھنڈے دکھائے ہیں جو گورنر کے عہدہ کا سیاسی استعمال کر رہے ہیں۔ وہ ایک طرف گورنر ہیں تو دوسری طرف بی جے پی صدر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ دومکول میں گرلس کالج کی نئی عمارات کا افتتاح کرنے کے لئے سی پی ایم کے ممبر اسمبلی اور سابق ریاستی ومیر انیس الرحمن نے مدعو کیا تھا۔ گورنر نے اس پروگرام میں شرکت کے لئے ریاستی حکومت سے ہیلی کاپٹر مانگا تھا۔ فرکا پروگرام کے لئے بھی گورنر نے ہیلی کاپٹر مانگا تھا۔

بی جے پی نے الزام عاید کیا ہے کہ ترنمو ل کانگریس کی مقامی یونٹ نے اس احتجاج کا انعقاد کیا تھا۔جولوگ نعرے بازی کررہے تھے وہ سب کے سب ترنمول کانگریس کے ورکر تھے۔ تاہم ترنمول کانگریس کی مرشدآباد یونٹ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج ترنمول کانگریس کے ورکروں نے نہیں بلکہ عام لوگوں نے کیا ہے۔


بایاں محاذ کے ممبر اسمبلی سوجن چکرورتی نے کہا کہ یہ الگ سوال ہے کہ گورنر وہاں کیوں گئے تھے مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب گورنر جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کے خلاف نعرے بازی کیوں کی گئی۔ انہیں کالے جھنڈے کیوں دکھائے گئے۔ ریاستی کانگریس کے صدر سومن مترا نے کہا کہ کسی کے خلاف احتجاج کی حد ہوتی ہے۔ مگر مرکزی اور ریاستی حکومت دونوں کی ایک حد ہوتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔