کشمیر میں کورونا وائرس کے مزید 4 کیس سامنے آئے، لاک ڈاؤن جاری

جموں وکشمیر حکومت کے ترجمان روہت کنسل کے مطابق بدھ کو جن مریضوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ان کا تعلق شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں مزید چار مریضوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جس کے ساتھ یہاں مثبت اور مصدقہ کیسز کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہوگئی ہے۔ پورے جموں وکشمیر میں اب کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد گیارہ تک پہنچ گئی ہے جن میں سے تین کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ صحت یاب ہوچکے ہیں۔

جموں وکشمیر حکومت کے ترجمان روہت کنسل کے مطابق بدھ کو جن مریضوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ان کا تعلق شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔ ان کے سری نگر میں منگل کو مثبت آنے والے کیس سے قریبی تعلقات تھے اور پانچوں افراد نے ایک ساتھ ایک مذہبی تقریب میں شرکت کی تھی۔

انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ 'بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے مزید چار افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ ابتدائی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے سری نگر کے مریض جس کا کل کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا، سے قریبی تعلقات تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پانچوں نے ایک ساتھ ایک مذہبی تقریب میں شرکت کی تھی'۔

وادی میں کورونا وائرس کے اب تک جو کیسز سامنے آئے ہیں ان میں سے پانچ کا تعلق ضلع بانڈی پورہ اور تین کا تعلق سری نگر سے ہے۔ تاہم سری نگر میں سامنے آنے والے پہلے کیس کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ متاثرہ خاتون تیزی سے روبہ صحت ہو رہی ہیں۔

دریں اثنا دنیا کو دہشت زدہ کرنے والے کورونا وائرس سے بچنے کے لئے وادی میں بدھ کو مسلسل ساتویں روز بھی مکمل لاک ڈاؤن رہا جس کے باعث ہر سو سناٹا اور اضطرابی ماحول چھایا رہا۔ سری نگر اور ضلعی ہیڈکوارٹروں میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں نافذ ہیں اور سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں وکشمیر پولیس کے اہلکار لوگوں کو سڑکوں پر پیدل چلنے کی بھی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے بدھ کی صبح سری نگر کے بعض علاقوں کا دورہ کیا، نے زمینی حالات کو ان الفاظ میں پیش کیا: کہ 'سری نگر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے، سڑکوں اور گلی کوچوں کو مکمل سیل کیا گیا ہے، خار دار تار بچھا کر لوگوں کی نقل وحمل پر پابندی عائد کی گئی ہے'۔

وادی کے دوسرے قصبہ جات و تحصیل صدر مقامات سے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں دفعہ 144 نافذ ہے اور لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ انتظامیہ سماجی دوری کو ممکن بنانے کے لئے احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتی ہیں۔ جس کے چلتے اب تک کئی دکانوں سر بمہر اور گاڑیوں کو ضبط کیا جارہا ہے اور اپنی سفری تفصیلات چھپانے والوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جا رہی ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے جموں و کشمیر اور لداخ یونین ٹریٹری کی حکومتوں نے دونوں وفاقی حصوں میں پہلے ہی تمام تعلیمی ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ اور پبلک پارکوں، باغوں وغیرہ کو بند کیا ہے تاکہ ایک ہی جگہ لوگوں کے جمع ہونے کا روکا جاسکے۔

ادھر جموں وکشمیر حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے پنجاب، ہماچل پردیش اور لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ ملنے والے سرحدوں کو بھی بنا بر احتیاط سیل کیا ہے اور بین ضلعی چلنے والی گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کی ہے تاہم اشیائے ضروریہ سے لدی گاڑیاں حسب معمول چلیں گی۔ جموں وکشمیر کے داخلے پوائنٹ لکھن پور میں مسافروں کی ابتدائی اسکریننگ کی جاتی ہے اور بعد ازاں انہیں وہیں پر قرنطینہ میں بھیجا جاتا ہے۔