سپریم کورٹ: غیر ملکی لاء فرم ہندوستان میں دفاتر نہيں کھول سکتیں، حکومت کو جھٹکا

مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ بار کاؤنسل آف انڈیا اگر ایسا نہیں کرے گی تو حکومت اس عمل میں مداخلت کرے گی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے وکالت کے پیشہ سے متعلق ایک اہم فیصلے میں آج کہا کہ قانونی خدمات فراہم کرنے والی غیر ملکی کمپنیاں یا وکیل ہندوستان میں اپنا دفتر نہیں کھول سکتے۔

جسٹس آدرش کمار گوئل اور جسٹس ادے امیش للت کی بنچ نے بار کونسل آف انڈیا ( بی سی آئی ) کی عرضی کو نمٹا تے ہوئے اس ضمن میں بمبئی اور مدراس ہائی کورٹوں کے فیصلوں کو معمولی ترمیم کے ساتھ برقرار رکھا۔

عدالت عظمی نے کہا کہ قانونی خدمات فراہم کرنے والی یہ غیر ملکی کمپنیاں اور غیر ملکی وکیل ہندوستان میں غیر ملکی قانون کے تناظر میں اپنے کلائنٹس کو صرف عارضی طورپر مشورہ دے سکتے ہیں۔ یہ کمپنیاں اور ایسے وکیل، اگرچہ مستقل طور پر دفتر کھولنے کے بجائے 'آؤ اور جاؤ' (فلائی ان اور فلائی آؤٹ) کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے قانونی سروس مہیا کرا سکتے ہیں۔

جنویر میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے گزارش کی تھی کہ بار کاؤنسل آف انڈیا کو بیرونی لاء فرم اور وکلاء کے لئے ضوابط بنانے کے لئے کہا جائے۔ مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ بار کاؤنسل آف انڈیا اگر ایسا نہیں کرے گی تو حکومت اس عمل میں مداخلت کرے گی۔

بنچ نے کہا کہ غیر ملکی وکیل بین الاقوامی تجارتی تنازعات سے متعلق مقدمات میں پیش ہو سکتے ہیں، لیکن یہ متعلقہ ادارے کے قوانین پر انحصار کرے گا۔ سپریم کورٹ نے بی سی آئی اور مرکز کو اس کے لئے اصول و ضوابط تیار کرنے کو کہا ہے۔

ملک میں وکالت کے پیشہ کے قوانین طے کرنے والی بار کونسل آف انڈیا نے گز شتہ 10 جنوری کو عدالت میں دلیل دی تھی کہ غیر ملکی لا فرم اور غیر ملکی وکلاء کو ملک میں اس وقت تک پریکٹس کی اجازت نہیں دی جا سکتی جب تک وہ ہندوستانی قوانین پر کھرا نہیں اترتے۔

بی سی آئی کی جانب سے سینئر وکیل سی یو سنگھ نے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کی پرزور مخالفت کی تھی۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ ایڈووکیٹ ایکٹ 1961 کی شرائط اور بی سی آئی کے قوانین میں کھرا اترے بغیر کوئی غیر ملکی کمپنی یا وکیل قانونی بحث یا ثالثی مقدے میں پیش نہیں ہو سکتا۔

سب سے زیادہ مقبول