بی جے پی کے لئے 'جے اے ایم' کا مطلب جھوٹ، غرور اور مہنگائی: اکھلیش

اکھلیش یادو نے بی جے پی کے جے اے ایم کو جھوٹ، غرور اور مہنگائی قرار دیتے ہوئے طنز کسا کہ 'انہوں نے ہمیں 'جیم' بھیجا ہے اور ہم انہیں' بٹر 'بھیج رہے ہیں۔

اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

کشی نگر: سماجوادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے امت شاہ کے ذریعہ ایس پی کے 'جے اے ایم' فارمولے کا مطلب جناح، اعظم اور مختار بتائے جانے کے جواب میں بی جے پی کے لئے 'جے اے ایم' کا مطلب جھوٹ، غرور اور مہنگائی بتایا ہے۔ کشی نگر میں سماج وادی وجے یاترا کے ساتھ فاضل نگر پہنچنے پر ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش نے بی جے پی کے جے اے ایم کو جھوٹ، غرور اور مہنگائی قرار دیتے ہوئے طنز کسا کہ 'انہوں نے ہمیں 'جیم' بھیجا ہے اور ہم انہیں' بٹر 'بھیج رہے ہیں۔ اکھلیش نے کہا کہ بی جے پی کو اپنے 'جے اے ایم' کے مطلب جھوٹ، غرور اور مہنگائی کا جواب دینا ہوگا کہ عوام کو اس نے یہ تینوں سوغات کیوں دی۔

قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کو اعظم گڑھ کی ریلی میں وزیر داخلہ امت شاہ نے سماجوادی پارٹی کے 'جے اے ایم' فارمولے کو جناح، اعظم خان اور مختار کا شارٹ فارم بتایا تھا۔ حال ہی میں اکھلیش نے پاکستان کے فاونڈر محمد علی جناح کا موازنہ مہاتما گاندھی، سردار پٹیل اور پنڈت نہرو سے کیا تھا جس سے سیاسی الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔


اس سے پہلے کشی نگر میں پریس کانفرنس میں انہوں نے ریاست میں ایس پی حکومت بننے پر سال بھر غریبوں کو مفت کھانہ دینے کا وعدہ کیا۔ حکمراں جماعت کے ذریعہ انتخابات میں مذہبی پولرائزیشن کرنے کی کوشش کے سوال پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر اعلی نے کہا کہ 'سماج وادیوں کا منشور آنے دیجئے سبھی طرح کے پولرائزیشن ایس پی کے حق میں ہو جائیں گے' انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ ایس پی کے انتخابی منشور میں وعدوں کو جھڑی لگنے والی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس پی حکومت بننے پر سال بھر غریبوں کو مفت کھانہ ملے گا۔ جبکہ بی جے پی نے پہلے دیوالی تک اور اب ہولی تک غریبوں کو مفت اناج دینے کی اسکیم کو آگے بڑھایا ہے۔ اس کی صاف وجہ ہے اگلے سال مارچ میں ہولی سے پہلے انتخابات ہو جائیں گے۔ بی جے پی پر مذہبی منھ بھرائی کی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اتوار کو کہا کہ وہ (بی جے پی) ہمیں پچھڑا کہتے ہیں، لیکن ہماری سوچ ترقی پذیر ہے اور وہ (بی جے پی) اعلی ہوکر بھی پسماندہ سوچ والے ہیں۔


اکھلیش نے کہا کہ مرکزی اور اترپردیش میں بی جے پی حکومت انہیں پروجکٹوں کا افتتاح کر رہی ہے جنہیں پانچ سال پہلے سماج وادی پارٹی حکومت نے شروع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم نے پانچ سال پہلے سڑک پر طیارے اتارے تھے۔ بی جے پی حکومت آج یہ کام کر کے تعریفیں لوٹنا چاہتی ہے۔ بی جے پی حکومت ہم سے پانچ سال پیچھے چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے صاف ہے کہ بی جے پی والے اپنی سوچ اور اپنے کام کی بنیاد پر پچھڑے ہیں۔

یوگی حکومت کے ذریعہ اعظم گڑھ کا نام 'آرین گڑھ ' کرنے کے سوال پر اکھلیش نے کہا کہ یہ حکومت صرف شہروں اور پروجکٹوں کے نام اور رنگ بدلنے کا کام کر رہی ہے۔ عوام اب اس حکومت کو بدلنے کا کام کریں گے۔ انہوں نے اس کی نظیر پیش کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے لکھنؤ میں اٹل جی کے نام پر میڈیکل کالج بنانے کا دعوی کیا تھا۔ مگر آج عالم یہ ہے کہ لکھنؤ میں سماج وادی حکومت نے ایک شاندار میڈیکل کالج بنوایا تھا اس کی نویں منزل پر اٹل جی کے نام سے ایک یونٹ شروع کر کے یوگی حکومت نے اپنے وعدے پورے کر دئیے۔


ایس پی میں گروپ بندی کے سوال پر اکھلیش نے دو ٹوک کہا 'بغیر گروپ بازی کے پارٹی اور پالیٹکس چلتی نہیں ہے۔ کسانوں کے ساتھ بھی بی جے پی حکومت میں دھوکہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اکھلیش نے کہا کہ ریاست میں دھان کی خرید کہیں نہیں ہو رہی ہے۔ جہاں خرید ہو رہی ہے وہاں قیمت نہیں مل رہی ہے۔ ساتھ ہی گنا کسانوں کے بقایہ جات کی بھی ادائیگی ابھی تک نہیں ہوپائی ہے۔

اکھلیش نے کہا کہ مرکزی اور ریاست کی بی جے پی حکومت ملک کی املاک کو فروخت کرنے میں لگی ہے۔ انہوں نے کہا 'ابھی تک لوگ کہتے تھے کہ پھینکو سرکار ہے لیکن اب یہ 'بیچو سرکار' ثابت ہوگئی ہے۔ اکھیش نے ایک بار پھر اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر کمپوٹر نہ چلا پانے کا طنز کستے ہوئے کہا کہ ابھی پتہ چلا ہے کہ یوگی جی تنہائی میں بیٹھ کر کچھ بجلی آلات کے نام بولنے کی پریکٹس کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔