یوگی حکومت میں آوارہ مویشیوں کے سبب کسان بھکمری کے دہانے پر: ڈاکٹر ایوب سرجن

پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے میڈیا کو جاری بیان میں یوگی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یوپی میں آوارہ مویشیوں کے سبب کسان بھکمری کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے

ڈاکٹر ایوب سرجن، تصویر ٹوئٹر@ppayub
ڈاکٹر ایوب سرجن، تصویر ٹوئٹر@ppayub
user

یو این آئی

پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے میڈیا کو جاری بیان میں یوگی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یوپی میں آوارہ مویشیوں کے سبب کسان بھکمری کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مویشیوں کے لیئے کوئی نظم نہ کر انہیں آوارہ چھوڑ دینے سے فصلوں کو نقصان پہونچنے کے سبب آج کسان بھکمری کے دہانے پر پہونچ گیا ہے۔

ایوب سرجن نے کہا کہ کھیتوں میں مویشیوں کے ریوڑ دیکھے جا سکتے ہیں۔ گئوشالاوں کی تعمیر کے بعد بھی مسائل کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔ مویشیوں سے کسان تو پریشان ہی ہیں سڑکوں پر گھومتے ریوڑ ٹریفک کے لیئے بھی مسائل کھڑے کر رہے ہیں، جس کے سبب روز بروز حادثہ ہوتا رہتا ہے۔


ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ گائے و بیل کے مذہبی عقیدے کی میں عزت کرتا ہوں اور ان کے تحفظ کا حامی ہوں مگر انہیں آوارہ چھوڑ دینے سے عقیدہ بھی مجروح ہو رہا ہے۔ تاہم آج یہ آوارہ مویشی انسانی جان کے لیئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، جس سے کبھی کبھی ان کے حملے سے لوگوں کی جان بھی ضائع ہو جاتی ہے۔

فصلیں بھی برباد ہو رہی ہیں اور سڑکوں پر مویشیوں کے ریوڑ سے ٹریفک کے لیئے بھی مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ صوبہ کے زیادہ تر کسانوں نے آوارہ مویشیوں کے خوف سے کھیتی کرنا چھوڑ دیا ہے، جس کے سبب اس مہنگائ و بے روزگاری میں وہ بھکمری کے دہانے پر پہونچ گئے ہیں۔ آج حالات یہ ہیں کہ کسان گھروں کے برعکس کھیتوں میں رات دن رہ کر نگرانی کے لیئے مجبور ہے، اس کے بعد بھی آوارہ مویشیوں سے فصلیں محفوظ نہیں ہیں۔


انہوں نے کہا کہ حکومت دعوی کرتی ہے کہ اس نے گئوشالاوں کی تعمیر کر مسئلہ حل کر دیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آوارہ مویشیوں کی تعداد کے دس فیصد کے لیئے گئوشالاوں میں رکھنے کا انتظام نہیں ہے۔ پیس پارٹی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ آوارہ مویشیوں کے لیئے مستقل انتظام کیا اور متاثر کسانوں کو معاوضہ دیا جائے، جس کے سبب ان کا گزر بسر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس مطالبہ کو قبول نہیں کرتی تو پیس پارٹی کسانوں کے ساتھ مل کر اس مسئلہ پر تحریک چلانے اور احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔