بھاجپا راج کی کھلتی پول گرتی ساکھ

پر اسرار واقعات اور نئے خلاصوں نے ایک طرف عوام کو مایوس کیا ہے، تو وہیں دوسری طرف حکومت کی ساکھ کو گرایا ہے۔ سی بی آئی کے معاملہ نے مودی سرکار اور بھاجپا کی نیت پر سنگین سوال کھڑے کئے ہیں۔

By ڈاکٹر ایم ایچ غزالی

ملک کی 5 ریاستوں میں الیکشن جاری ہیں ۔ اسے 2019 کے عام انتخابات کا سیمی فائنل بھی مانا جا رہا ہے ۔ مودی شاہ کی کوشش ہے کہ عوام کا فیصلہ اس چناؤ ميں مرکز کی ساڑھے چار سالہ اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کی بنیاد پر نہ ہو، جبکہ چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی پندرہ سال سے اقتدار میں ہے ۔ بھاجپا یہاں بھی الیکشن کے دوران ریاستی حکومت کی کارکردگی پر بحث سے بھاگتی اور لوگوں کا دھیان ہٹاتی دکھائی دی ۔ وہ ہندوتوا سے جڑے جذباتی مدوں کے سہارے الیکشن کی سیڑھی چڑھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کی سرکاروں کی ناکامی سے پیدا ہوئی عوام کی ناراضگی اس کی بڑی وجہ ہے ۔ جس نے عام لوگوں کو بہت مایوس کیا ہے ۔ ان کی ناراضگی الیکشن کے وقت کھل کر سامنے آ رہی ہے، راجستھان میں بی جے پی کی حکومت کے خلاف عوام میں بری طرح سے ٹھگے جانے کا احساس صاف دیکھا جا سکتا ہے ۔ سیاسی حکمت عملی کے طور پر ہی اچانک ایودھیا میں رام مندر کے مدے کو اچھالنے کی سنگھ کی کوششوں کو تیز کیا گیا ہے ۔

سپریم کورٹ کے ایودھیا معاملہ کی سنوائی جنوری تک ملتوی کئے جانے کے بعد 'ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس' پہنچنے کے بہانے سادھو، سنتوں کی کانفرنس، میٹنگوں کا پروگرام بنا کر ملک میں مذہبی پاگل پن پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس مہم کے سنگین ہونے کا اندازہ ان خبروں سے لگایا جا سکتا ہے جن کے مطابق پچھلے دنوں بنارس میں ہوئی آر ایس ایس کی متر تنظیموں کے ذمہ داروں کے ساتھ موہن بھاگوت کے چھ دنوں کی جائزہ بیٹھک میں، سارے کام چھوڑ کر اگلے انتخابات تک ایودھیا مدے کو گرمانے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ رام مندر کو لے کر وزیراعظم نریندرمودی کا الور (راجستھان) میں دیا گیا بیان عوام کو گمراہ کرنے والا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کانگریس کے دباؤ میں ایودھیا معاملہ کی سنوائی کو ملتوی کیا ہے ۔ کانگریس نہیں چاہتی کہ رام مندر بنے ۔ ان کا بیان ایک طرف غیر ہندو اقوام کو ٹھیس پہنچانے والا ہے تو دوسری طرف ہندوؤں کو ورغلانے والا ۔ یہ سپریم کورٹ پر عوام کے اعتبار کو بھی دھکا پہنچانے والا ہے ۔ ملک کے وزیر اعظم سے اس طرح کے بیان کی امید نہیں کی جا سکتی۔

سبری مالا مندر معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو لاگو نہ ہونے دینے کے لئے، بی جے پی کی قیادت میں کھلم کھلا مہم چلائی جا رہی ہے، جس میں اب مودی سرکار کے وزراء بھی شامل ہو گئے ہیں ۔ یہ مہم کیرالہ میں بھاجپا کو کتنا فائدہ پہنچائے گی یا تلنگانہ کے الیکشن میں کتنی اثر انداز ہوگی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ البتہ اس سے بی جے پی کے فرقہ وارانہ چہرے کو چمکانے میں کچھ مدد تو مل ہی رہی ہے ۔ بی جے پی نے ایودھیا معاملہ میں چھلانگ لگانے سے پہلے کئی اور مدے بھی آزما کر دیکھ رہی ہے ۔ این آر سی کے بہانے فرقہ وارانہ رنگ کے ساتھ "گھس پیٹھیوں" کا معاملہ اور شہریت قانون میں ترمیم کا ایشو انہیں کوششوں کا حصہ ہے ۔ راجستھان کے انتخابی منشور میں گائے پر توجہ، روہنگیا مسلمانوں کی واپسی، بنگلہ دیشیوں کو نکالنے اور پاکستان، بنگلہ دیش، شری لنکا وغیرہ سے آئے ہندوؤں کو شہریت کا وعدہ فرقہ وارانہ رنگ کو چمکانے کی ہی کوشش ہے ۔

عوام کی ناراضگی، حکومت کی ہر سطح پر بھاری ناکامی اور ایک کے بعد ایک سامنے آرہے گھوٹالوں نے مودی کی شبیہ کو مجروح کیا ہے ۔ اس کی وجہ سے الیکشن میں وہ جھوٹی تاریخ اور فروعی باتوں کا سہارا لے رہے ہیں ۔ جس میں ملک کے سارے مسائل کی جڑ نہرو اور ان کی وراثت سے جڑی سیاست ہے ۔ حزب اختلاف کے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے " میں غریب چائے والے کا بیٹا، میرے خلاف سب، انہوں نے کیسے مجھ سے سوال کرنے کی جرآت کی اور وہ مجھ پر تنقید کیسے کر سکتے ہیں"؟ وغیرہ کی دہائی دے رہے ہیں ۔ انہیں یہ بھی کہتے سنا گیا کہ مجھ سے مقابلہ نہیں کر سکتے تو میری ماں، باپ کو سیاست میں گھسیٹا جا رہا ہے ۔ نوٹ بندی کے وقت مودی جی نے خود اپنی ماتا جی کو اے ٹی ایم کی لائن میں لگا کر واہ واہی لوٹی تھی ۔ اب بات بنیادی سوالوں سے ہٹ کر ذات اور گوتر پر آ پہنچی ہے ۔ رائے دہندگان کو سوچنا ہوگا کہ اس طرح کی باتوں سے ان کے علاقے یا ریاست کا کچھ بھلا ہو سکتا ہے؟ ۔

پر اسرار واقعات اور نئے خلاصوں نے ایک طرف عوام کو مایوس کیا ہے، تو وہیں دوسری طرف حکومت کی ساکھ کو گرایا ہے ۔ سی بی آئی کے معاملہ نے مودی سرکار اور بھاجپا کی نیت پر سنگین سوال کھڑے کئے ہیں ۔ سی بی آئی کو اپنا سیاسی ہتھیار بنانے کی ننگی کوششوں نے مرکزی جانچ ایجنسی میں بحران پیدا کر دیا ہے ۔ پہلے خلاصے نے حزب اختلاف کے خلاف سی بی آئی کے اندھادھند غلط استعمال پر سے پردہ اٹھا دیا ہے ۔ وزیر اعظم کے آفس اور بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سوشیل کمار مودی کے ذریعہ (نتیش کمار کی جانکاری میں) سی بی آئی پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ آئی آر سی ٹی معاملہ میں لالو کے خاندان کو گرفتار کر لیا جائے ۔ اس کے باوجود کہ سی بی آئی کے ماہرین قانون نے پختہ ثبوت نہ ہونے کی بنا پر ایسا نہ کرنے کی صلاح دی تھی ۔ دوسرا معاملہ سی بی آئی کے جھگڑے میں مودی سرکار کی جانب دارانہ مداخلت کی شکل میں سامنے آیا ۔ تیسرا خلاصہ 2005 کے سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر میں، اس وقت سی بی آئی گاندھی نگر کے ایس پی اور اس معاملہ کے انویسٹی گیشن آفیسر امیتابھ ٹھاکر نے ممبئی کی سی بی آئی عدالت میں اپنی گواہی کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل سے امت شاہ کو سیاسی و اقتصادی فائدہ ہوا تھا ۔ شاہ کے علاوہ اے ٹی ایس کے اس وقت کے ڈی آئی جی بنجارہ، اودے پور کے ایس پی دینیش ایم این، احمدآباد کے ایس پی راج کمار پانڈیا اسی وقت کے احمدآباد کے ڈی سی پی اجے چوڈاساما کو بھی اس سے سیاسی فائدہ ہوا تھا۔

رافیل معاملہ میں آئی تفصیلات نے موجودہ حکومت کے کرپشن مکت ہونے کے دعویٰ کی قلعی کھول دی ۔ نوٹ بندی جسے نریندر مودی نے غریبوں کے حق میں کالی دولت کے خلاف لیا گیا فیصلہ بتایا تھا۔ اقتصادی طور پر عام آدمی کی نوٹ بندی نے کمر توڑ دی ہے ۔ اس سے چھوٹے، منجھولے کاروبار ہی نہیں کسان بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ لاکھوں کسان نقدی کی کمی کی وجہ سے ربی کی فصل کے لئے بیج اور کھاد نہیں خرید پائے تھے یہ بات وزارت زراعت نے اپنی حالیہ رپورٹ میں تسلیم کی تھی جسے آج بدل دیا گیا ہے ۔ سینئر صحافی پی سائیں ناتھ کا ماننا ہے کہ کھیتی بیمہ رافیل سے بھی بڑا گھوٹالہ ہے ۔ جسے بنک اور بیمہ کمپنیاں مل کر انجام دے رہی ہیں ۔ جموں وکشمیر میں گورنر کے ذریعہ اسمبلی تحلیل کر جس طرح سیاسی بحران پیدا کیا گیا، اسے جمہوریت کی اچھی مثال نہیں کہا جا سکتا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کو اپنے آزمائے ہوئے ہندوتوا کے ایجنڈے کا سہارا لینا پڑ رہا ہے ۔ اس میں منفی سوچ پہلے سے موجود ہے ۔ جو الیکشن کو پولرائز کرنے اور عوام کا دھیان بنیادی مسائل کی طرف سے ہٹانے میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔ لیکن اس بار حالات بدلے ہوئے ہیں ۔ ان سارے ہتھکنڈوں سے انتخابات میں ان کی ہار کا راستہ ہی تیار ہوگا ۔ حال ہی میں آئی نیتا ایپ کے سروے کی رپورٹ اس کا ثبوت ہے ۔ ایپ کے ذریعہ پچھلے ماہ دو کروڑ لوگوں کا آن لائن اور فون سے سروے کیا گیا تھا ۔ اس کے مطابق ہندی پٹی کی 225 سیٹوں پر بی جے پی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔ پارٹی نے 2014 میں 190 سیٹیں جیتی تھیں 2019 میں بی جے پی کو ان میں سے تقریبا 128 سیٹیں ملنے کا امکان ہے ۔ بھاجپا عام انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی، اقتدار تک پہنچے گی یا نہیں یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حزب اختلاف کی چناوی حکمت عملی کیا ہوگی۔