قومی

مختار عباس کو ’مودی کی سینا‘ والے بیان پر الیکشن کمیشن کی پھٹکار

الیکشن کمیشن نے اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کو انتخابی تشہیر کے دوران رام پور میں قابل اعتراض تقریر کرنے کے معاملے میں پھٹکار لگائی ہے اور کہا ہے کہ وہ مستقبل میں ایسی گستاخی نہ کریں۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کو ’مودی کی سینا (فوج) والے بیان پر الیکشن کمیشن نے پھٹکار لگائی ہے۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ آگے سے انتخابی تشہیر کے دوران سیکورٹی فورسز کا حوالہ نہ دیں اور مستقبل میں ایسا کوئی بیان ہرگز نہ دیں۔

رامپور میں 3 اپریل کو بی جے پی کی امیدوار جیا پردا کے حق میں تشہیر کرنے کے دوران مختار عباس نقوی نے فوج کا ذکر کرتے ہوئے اسے ’مودی جی کی سینا‘ کہا تھا۔ ان کے بیان پر الیکشن کمیشن نے فوری طور پر نوٹس لیا اور اس بیان کو مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا تھا۔

کمیشن کے چیف سکریٹری انج جے پوریا نے جمعرات کو جاری اپنے حکم میں کہا کہ رام پور کے ضلع الیکشن کمشنر نے نقوی کو 5 اپریل کو اس بات کے لئے نوٹس جاری کیا تھا کہ نقوی نے تین اپریل کو رام پور میں اپنی انتخابی تقریر میں ’مودی کی سینا‘ کا ذکر کیا تھا جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ کمیشن کے مطابق نقوی کا جواب 8 اپریل کو ملا تھا۔ واضح رہے کہ کمیشن نے 9 مارچ کو ہی ایک خط جاری کرکے سبھی سیاسی پارٹیوں کو آگاہ کیا تھا کہ وہ انتخابی تشہیر کے دوران فوج کا استعمال نہ کریں اور نہ ہی ان کا ذکر کریں۔

کمیشن نے نقوی کی تقریر کی ویڈیو ریکارڈنگ دوبارہ سے دیکھی اور وہ اس بات پر متفق ہیں کہ نقوی کی یہ تقریر کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے احکام کے مطابق نہیں ہے اس لئے کمیشن نے نقوی کو انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ سیاسی تشہیر کے لئے فوج کا ذکر مستقبل بھی نہ کریں۔