مدھیہ پردیش میں لاک ڈاؤن کا اندیشہ، حکومت نے کی سخت فیصلے کی تنبیہ

مدھیہ پردیش میں گزشتہ کچھ دنوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھی ہے، وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ نومبر ماہ کے شروع میں جو حالات تھے، موجودہ حالات اس سے خراب ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے مریضوں اور نئے ویریئنٹ اومیکرون کے اندیشہ کے درمیان حکومت نے احتیاطی قدم اٹھاتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ اگر حالات قابو میں نہیں رہے تو ریاست میں لاک ڈاؤن کی حالت بن سکتی ہے۔ ابھی تو صرف رات کا ہی کرفیو لگایا گیا ہے۔

ریاست میں گزشتہ کچھ دنوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھی ہے۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ ریاست میں نومبر ماہ کے شروع میں جو حالات تھے، اس سے تین گنا مریض موجودہ وقت میں سامنے آئے ہیں۔ اس لیے احتیاطی قدم اٹھائے جانے کے ساتھ ہی عوام کا تعاون بھی ضروری ہے۔


وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کے مطابق ریاست میں گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کے 32 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں اندور سے 13، بھوپال سے 7 اور جبل پور سے 5 کیس شامل ہیں۔ موجودہ وقت میں ریاست میں مجموعی طور پر سرگرم کیس کی تعداد 201، انفیکشن کی شرح 0.05 فیصد اور صحت مند ہونے کی شرح 98.60 فیصد ہے۔

وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے ریاستی عوام کو خطاب کرتے ہوئے صاف کر دیا ہے کہ کورونا کو روکنا پہلی ترجیح ہے۔ اس لیے رات کا کرفیو لگایا گیا ہے۔ رات میں 11 بجے سے صبح 5 بجے تک کی مدت کے لیے کرفیو نافذ ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی آگے ضروری ہونے پر مناسب قدم اٹھانے پر بھی حکومت غور کر رہی ہے۔


ریاستی حکومت کے ذریعہ دیگر ریاستوں میں اور سرحد سے ملحق ریاستوں میں کووڈ-19 کے اومیکرون ویریئنٹ کے پازیٹو کیس اور ایکٹیو کیس کی بڑھتی تعداد اور تیسری لہر کے اندیشہ کے مدنظر نئے گائیڈ لائن جاری کیے ہیں۔

محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیش راجورا نے بتایا کہ رات کا کرفیو نافذ کرنے کے ساتھ سنیما ہال، ملٹی پلیکس، تھیٹر، جم، کوچنگ کلاسز، سوئمنگ پول، کلب اور اسٹیڈیم میں آنے والے لوگوں اور وہاں کے سبھی اسٹاف کے لیے بھی ویکسین کی دونوں خوراک کو لازمی کیا گیا ہے۔ اس میں 18 سال سے زیادہ عمر کے صرف ان لوگوں کو ہی داخلہ کی اجازت رہے گی جنھوں نے دونوں ٹیکے لگوا لیے ہیں۔


حکومت کی ہدایت ہے کہ سبھی اسکولوں، کالجوں، ہاسٹلوں سے جڑے پرنسپل، اساتذہ، منتظمین، اسٹاف اور تعلیم حاصل کرنے والے 18 سال سے زیادہ عمر کے طلبا و طالبات ک ویکسین کی دونوں خوراک لگانا لازمی کیا جائے۔ جاری ہدایات کے مطابق سبھی مارکیٹ پلیس اور مال کے دکانداروں اور میلوں میں دکان لگانے والے دکانداروں کے لیے بھی ویکسین کی دونوں خوراک لگانا ضروری ہے۔ جن دکانداروں نے دونوں ٹیکے نہیں لگوائے ہیں انھیں دونوں ٹیکے لگوانے کو یقینی بنانا مارکیٹ ایسو سی ایشن، مال مینجمنٹ اور میلہ کنوینر کی ذمہ داری ہوگی۔

ریاست میں کورونا گائیڈلائن پر عمل ہو، اس سمت میں حکومت سخت ہوتی نظر آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کووڈ سے متعلق ہدایات یعنی ماسک کا استعمال، سماجی فاصلہ وغیرہ پر زور دیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ماسک نہیں لگانے والے اشخاص پر قانون کے مطابق جرمانہ وصولی کی کارروائی کی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔