ایودھیا کے شور میں عوام کی سسکیاں اور چیخیں مت دباؤ

کوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کر رہا کہ جن سیاست دانوں نے 1992 سے پہلے اور بعد میں ملک کا ماحول خراب کیا تھا وہ آج بھی جمہوریت کے مندر کے ارکان کیوں ہیں؟۔

By سید خرم رضا

تناؤ، ہنگامہ، فکر، خوف اور اندھیرا یہ الفاظ ذہن میں آتے ہیں جب رام کے نام پر لوگ شہروں، قصبوں اور سڑکوں پر جمع ہوتے ہیں۔ یہ ہم کیا کر رہے ہیں، ہمارے سیاست داں کیا کر رہے ہیں، حکمراں کیا کر رہے ہیں، مذہبی پیشوا کیا کر رہے ہیں۔ کیا مذہب سیاست کرنے کے لئے ہے، کیا مذہب خوف پھیلانے کے لئے ہے، کیا مذہب ہنگامہ برپا کرنے کے لئے ہے، کیا اقتدار کے لئے مذہب کا تڑکا ضروری ہے۔ اس تڑکے کے بغیر کیا آپ کے کھانے میں ذائقہ نہیں آتا، اس تڑکے کے بغیر کیا اقتدار کی کرسی تک نہیں پہنچا جاسکتا، اس تڑکے کے بغیر کیا سماج میں اتحاد قائم نہیں کیا جاسکتا۔ آخر کیوں اور کن لوگوں کو اس تڑکے کی ضرورت ہے۔

آج پھر رام کے نام پر لوگوں کو جمع کیا جا رہا ہے اور چند ماہ بعد ملک میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ آج پھر عوام اپنی پریشانیوں کاحساب مانگنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ آج پھر حکومت کے پاس اپنے ساڑھے چار سالوں کی کارکردگی بتانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ آج پھر حکمرانوں اور کارپوریٹ گھرانوں کے قریبی رشتوں سے پریشان اپنی رائے بنا رہی ہے۔ حکومت کو جب اتنے سارے سوال گھیر رہے ہوں تو پھر اس کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے اور وہ یہ ہے کہ سماج میں مذہب کا اتنا شور برپا کر دیا جائے تا کہ ہر سوال اس شور میں دب جائے اور عوام کی چیخیں اس میں دم توڑ دیں۔

اس ہنگامہ اور شور میں اقتدار حاصل کرنے کی اس سیاست کے علاوہ کئی اور بڑے سوال ہیں جن کا جواب کوئی دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ عدالت میں بھی یہ طے ہونا ہے کہ اس زمین کا مالک کون ہے ۔ کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ اس زمین کی 1992 والی حیثیت بحال کئے بغیر اس زمین کی ملکیت طے نہیں ہو سکتی۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ عدالت کو یقین دلانے کے بعد بھی مسجد شہید کی گئی، اس میں کتنے لوگوں کو سزائیں ملیں؟ کوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کر رہا کہ جن سیاست دانوں نے 1992 سے پہلے اور بعد میں ملک کا ماحول مکدر کیا تھا وہ آج بھی جمہوریت کے مندر کے ارکان کیوں ہیں؟ کوئی اس بات کو پتہ لگانے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اس تنازعہ کی وجہ سے جن لوگوں کے گھر اجڑے، جو بچے یتیم ہوئے، جوعورتیں بیوہ ہوئیں اور جن بہنوں نے اپنے بھائی کھوئے وہ کس حال میں ہیں؟ اس سب کی ضرورت کیا ہے، ضرورت تو اس بات کی ہے کہ اقتدار کیسے حاصل کیا جا ئے، ضرورت تو اس بات کی ہے کہ ملک کے پریشان عوام کی چیخوں کو کیسے دبایا جائے۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ بڑے کارپوریٹ گھرانوں سے کسی کوسوال کرنے کی ہمت نہ ہو۔

حب الوطنی کا دم بھرنے والوں کو ملک کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے، ان کو عوام کی پریشانیوں اور درد کا کوئی احساس نہیں ہے، ان کو قومی معیشت سے کوئی سروکار نہیں ہے، ان کو بچوں کی حفاطت اور تعلیم سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ان کو مطلب صرف یہ ہے کہ اب انتخابات ہونے ہیں، عوام کے سوالوں کے جواب نہیں ہیں تو بس رام کا نام لینا ہے، معصوم اور غریب عوام کو مذہب کی آگ میں جھونک دینا ہے تاکہ اس آگ اور شور میں کوئی سوال نہ کرے اور نہ کوئی مسائل اٹھائے۔ عدالت کی کوئی بات بالکل نہ کرے کیونکہ عدالت کا تو ہم نے پہلے بھی احترام نہیں کیا تھا ۔ہمارا پہلے ہی صبر دم توڑ رہا ہے۔ رام کے واسطے بند کرو یہ سب کچھ ، ملک اور عوام کی ترقی کے بارے میں ذرا سوچو۔

کیفی اعظمی کی نظم ’دوسرا بن با س ‘ آج بہت شدت سے یاد آ رہی ۔

’’ پیار کی کہکشاں لیتی تھی انگڑائی جہاں:موڑ نفرت کے اسی راہ گزر میں آئے ‘‘

’’دوسرا بن باس‘‘

رام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئے

یاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئے

رقص دیوانگی آنگن میں جو دیکھا ہوگا

چھ دسمبر کو شری رام نے سوچا ہوگا

اتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئے

جگمگاتے تھے جہاں رام کے قدموں کے نشاں

پیار کی کہکشاں لیتی تھی انگڑائی جہاں

موڑ نفرت کے اسی راہ گزر میں آئے

دھرم کیا ان کا تھا، کیا ذات تھی، یہ جانتا کون

گھر نہ جلتا تو انہیں رات میں پہچانتا کون

گھر جلانے کو مرا لوگ جو گھر میں آئے

شاکاہاری تھے میرے دوست تمہارے خنجر

تم نے بابر کی طرف پھینکے تھے سارے پتھر

ہے مرے سر کی خطا، زخم جو سر میں آئے

پاؤں سرجو میں ابھی رام نے دھوئے بھی نہ تھے

کہ نظر آئے وہاں خون کے گہرے دھبے

پاؤں دھوئے بنا سرجو کے کنارے سے اٹھے

رام یہ کہتے ہوئے اپنے دوارے سے اٹھے

راجدھانی کی فضا آئی نہیں راس مجھے

چھ دسمبر کو ملا دوسرا بن باس مجھے