دھننجے منڈے زنابالجبر معاملہ نے لیا نیا موڑ، بی جے پی دم بخود!

ممبئی کی ایک خاتون جس نے وزیر دھننجے منڈے کے خلاف عصمت دری کے الزامات عائد کیے تھے، نے آج جمعہ کے روز اپنی پولیس شکایت واپس لے لی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: مہاراشٹرا کے وزیر دھننجے منڈے زنا بالجبر معاملے نے اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کیا جب آج شکایت کنندہ خاتون نے اپنی شکایت واپس لے لی۔ دریں اثنا اس واقعہ کے حیرت انگیز رخ لینے کے بعد اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار نے کہا سچائی کا انتظار کرنے کا پارٹی کا فیصلہ صحیح ثابت ہوا ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ اب تک شکایت کنندہ خاتون کی حمایت میں دھننجے منڈے سے استعفے کا مطالبہ کرنے والی بی جے پی نے یو ٹرن لیتے ہوئے اب اسی خاتون کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 192 کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دراصل شکایت کنندہ کے ذریعہ شکایت واپس لینے سے بی جے پی دم بخود نظر آ رہی ہے۔

ممبئی کی ایک خاتون جس نے وزیر دھننجے منڈے کے خلاف عصمت دری کے الزامات عائد کیے تھے، نے آج جمعہ کے روز اپنی پولیس شکایت واپس لے لی۔ پولیس حکام کے مطابق ، خاتون نے اس کی کوئی وجہ بتائے بغیر اپنی شکایت واپس لی ہے۔ اس نے تفتیشی افسر کو بتایا کہ وہ اپنی شکایت واپس لینا چاہتی ہے۔ اس خاتون نے گیارہ جنوری کو سماجی انصاف کے وزیر کے خلاف درج کرائی گئی شکایت میں 2006 میں شادی کے بہانے زیادتی اور جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا۔جس پر پولیس نےتحقیقات شروع کردی تھیں۔ پولیس نے شکایت کنندہ کو عصمت دری کے الزامات واپس لینے کے بعد ایک حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے۔

واضح رہے کہ جیسے ہی یہ شکایت سامنے آئی تھی ، حزبِ اختلاف بی جے پی نے منڈے کا کابینہ سے استعفیٰ دینے کی مانگ کی تھی، تاہم ، این سی پی نے منڈے کے خلاف الزامات ثابت ہونے تک کسی بھی کارروائی سے انکار کردیاتھا۔ اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے اپنی پارٹی کے وزیر برائے سماجی انصاف دھننجے منڈے پر اس خاتون کے ذریعہ عصمت دری کے الزامات لگائے جانے کے معاملے کو ’خاندانی معاملہ‘ بتا کر صرف نظر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج منڈے کے خلاف درج شکایت واپس لیے جانے کے بعد یہاں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے پوار نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ منڈے کے خلاف عصمت دری کے الزامات لگائے جانے کے بعد حقائق کے سامنے آنے کا پارٹی کا فیصلہ صحیح تھا۔پوار نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاست میں مہا وکاس آگھاڑی حکومت کو گرانے کے لئے دہلی سے ممبئی تک کوششیں جاری ہیں۔ تاہم اسی کے ساتھ سابق مرکزی وزیر پوار نے کہا کہ شیوسینا کے زیرقیادت حکومت ، جس میں این سی پی ایک اہم جز ہے ، اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔

این سی پی کے سربراہ ، جنھوں نے ابتدا میں عصمت دری کے الزامات کو سنگین قرار دیا تھا، مزید کہا کہ ’’مجھے شکایت واپس لینے کے بارے میں خبر پڑھنے کو ملی۔ میں تفصیلات نہیں جانتا ہوں۔ لیکن منڈے اور پارٹی عہدیداروں سے بات چیت کے بعد ہم نے محسوس کیا تھا کہ کہ پہلے سچ کی تصدیق کی ضرورت ہے۔ ہمیں لگا جب تک حقیقت کا پتہ نہیں چل جاتا ہمیں کسی نتیجے تک نہیں پہنچنا چاہئے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے اور ہمارا فیصلہ صحیح تھا۔

دریں اثناء اس معاملے میں بی جے پی کی جانب سے یو ٹرن لینے ہوئے اس خاتوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کہا گیا ہے۔و یہ دلچسپ حقیقت اس وقت سامنے آئی جب آج جمعہ کو بی جے پی خواتین کی ونگ لیڈر چترا واگھ نے اس شکایت کنندہ خاتوں کے خلاف ایک بیان دیتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا اور مطالبہ کیا کہ وزیر کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کے لئے پولیس اس خاتون کے خلاف تعزرات ہند کی دفعہ 192 کے تحت مقدمہ درج کرے۔ قبل ازیں بی جے پی ممبئی کے نائب صدر کرشنا ہیگڈے نے بھی ان کے خلاف اس خاتون کے ذریعے سے ’ہنی ٹریپ‘ کی کوشش کیے جانے کی شکایت درج کی تھی، جس کے باعث منڈے کو بہت بڑی راحت ملی تھی۔

واضح رہے کہ مراٹھواڑا کے پرلی مقام (بیڑ ضلع) سے تعلق رکھنے والے اور بی جے پی کے سابق قدآور لیڈر آنجہانی رہنما گوپی ناتھ منڈے کے بھتیجے دھننجے منڈے نے جو 2013 میں بی جے پی کو چھوڑ کر این سی پی میں شامل ہو گئے تھے، نے ان الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد بتایا تھا۔ تاہم منڈے نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ وہ ان پر الزام لگانے والی خاتوں کی بہن کے ساتھ 2003 سے لیو ان ریلیشن شپ (بغیر شادی کے میاں بیوی کی طرح ساتھ میں رہنا) میں رہے ہیں۔ اور خاتون سے انھیں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے جن کی دیکھ بھال وہ کرتے ہیں اور اس کی پوری معلومات ان کی اہلیہ اور ان کے پورے خاندان کو ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next