نوٹ بندی: بدعوانی کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی!

گزشتہ سال جب اچانک نوٹ بندی کا فیصلہ لیا گیا تو ایک بارمجھے لگا کہ فیصلہ صحیح ہے، حالنکہ 500 کا نوٹ بند کر نا اور 2 ہزار کا نوٹ جاری کرنا عجیب بھی لگ رہا تھا۔

یہ رپورٹ قومی آواز پر 8 نومر 2017 کو شائع ہو چکی

نوٹ بندی کے بعد مجھے خاص دقت اس لئے نہیں ہوئی کیوں کہ کچھ دن پہلے ہی میں نے مدر ڈیری، پٹ پڑ گنج میں اپنا کھاتا کھلوایا تھا ۔ یہ خصوصی برانچ ہے جہاں صرف کھاتا بردار اور وہاں کے ملازمین ہی جا سکتے ہیں۔ لائنیں وہاں بھی ہوتی تھیں لیکن آدھا یا ایک گھنٹے میں نمبر آنے کے بعد اے ٹی ایم سے روپے نکل آتےتھےلیکن وہاں جانے کے لئے بھی چھٹی لینی پڑتی تھی ۔ میرے ایک دوست نے اپنے سبھی دوستوں سے تقریباً 15 اے ٹی ایم کارڈ اکٹھا کئے ہوئے تھے۔ آفس سے آنے کے بعد شام کو ہم ایسے اے ٹی ایم کی تلاش میں نکل جاتے جہاں سے پیسے نکال سکیں۔ دو تین بار تو ہم رات کے ایک یاڈیڑ ھ بجے تک قطار میں لگ کر پیسے نکال کر لائے۔ مدر ڈیری برانچ سے میں کئی لوگوں کے لئے بذریعہ چیک 25 -25 ہزار روپے نکال کر لایا۔

میرے آفس کا بھی برا حال تھا ساتھ کام کرنے والے تڑپ رہے تھے۔ اوپر سے دو مہینے کی تنخواہ بھی پرانے نوٹوں میں دی گئی۔ انہیں بدلوانے کے لئے ساتھیوں کو بہت پاپڑ بیلنے پڑے۔ ملازمین دوپہر کے بعد آفس پہنچ رہےتھے ، پوچھنے پر اپنا رونا روتے کہ کس طرح انہیں گھنٹوں تک لائن میں لگے رہنا پڑا۔

شہر بھر کا تو بہت برا حال تھا، کچھ علاقوں میں تو لوگ رات رات بھر لائینوں میں لگے رہتے تھے۔ بےچارے غریب، مزدور، رکشہ چلانے والے،مرد، عورت اور بزرگ سب پریشان تھے۔ میں نے بینکوں کے سامنے صبح کے 4-5 بجے لوگوں کو سوتے ہوئے ،بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے پایا۔ کچھ تو پوری رات گھر ہی نہیں جاتے تھے یا پھر اذان کے وقت جاکر اپنا نمبر لگا دیتے تھے کہ جیسے ہی بینک کھلیں ان کا کام ہو جا ئے ۔

مجھے شروع میں یہ فیصلہ صحیح لگا تھا لیکن جب حکومت کی طرف سے بار بار اس کے مقاصد بدل بدل کر بتائے جانے لگے۔ بینکوں کے باہر لوگوں کی بھیڑ بڑھنے لگی۔ جب مجھے احساس ہوا کہ یہ فیصلہ مرکزی حکومت کے بدترین فیصلوں میں سے ایک ثابت ہوگا ۔

میرے آبائی قصبہ (میرانپور ضلع مظفرنگر) کی حالت اتنی خراب تھی کہ سوچ کر بھی دل سہم جاتا ہے۔ وہاں کے کسی اے ٹی ایم میں پیسے نہیں ڈالے جا رہے تھے۔ کو آپریٹیو سوسائٹیز نے پیسے تبدیل کرنے سے منع کر دیا تھا۔ بینک کے باہر لوگوں کی بھیڑ ہوتی لیکن بینک انہیں ایک پیسہ نہیں دے رہے تھے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہاں کے رسوخ والے اور کاروباری بینک ملازمین کو ’رشوت‘ دے کر اپنے نوٹ تبدیل کرا رہے تھے اسی لئے انہوں نے عام لوگوں کو پیسہ نہیں دیا۔ کئی لوگوں نے کمیشن خوری کا ہی کام شروع کر دیا، وہ پرانے روپے لیتے اور کمیشن لےکر نوٹ بدل کر دے دیتے۔ کئی اچھے کھاتے پیتے گھروں میں کھانے کے لالے پڑ گئے۔ وہ تو بھلا ہو گاؤں اور قصبوں کے بھائی چارے کا ورنہ اور برا حال ہو جاتا۔ وہاں لوگ ایک دوسرے کی خوب مدد کر رہے تھے، پڑوس کی خواتین ہمارے گھر سے ادھار مانگ کر لے جا رہی تھیں۔

آج نوٹ بندی کو پورا ایک سال ہو چکا ہے۔ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ مودی حکومت کی بہت بڑی بے وقوفی تھی۔ مودی نے اس کے جتنے بھی فائدے گنائے تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے۔ ساتھ ہی پورے ملک نے دیکھا کہ جن بینک ملازمین کو اب تک ایماندار سمجھا جاتا تھا وہ بھی بدعنوان ہو گئے۔ لوگ کمیشن خور ہو گئے۔ حکومت سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اسے اعتراف کر لینا چاہئے لیکن حریت انگیز طریقہ سے یہ حکومت اپنی غلطی کا اعتراف تو کیا کرے گی یہ تو اسے اپنی بڑی کامیابیوں میں شمار کر رہی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول