کیش بحران LIVE: مودی نے بینکنگ نظام تباہ کر دیا، راہل گاندھی

مودی نے بینکنگ نظام تباہ کر دیا، راہل گاندھی

کئی ریاستوں میں جاری نقدی کی کمی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہ ’’مودی جی نے بینکنگ نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ نیرو مودی 30 ہزار کروڑ لے کر بھاگ گیا اور وزیر اعظم نے ایک لفظ نہیں کہا۔ مودی جی نے ہماری جیبوں سے 500 اور 1000 کے نوٹ کھینچ کر ہمیں قطار میں لگا دیا اور وہ نوٹ نیرو مودی کی جیب میں بھر دئے۔‘‘

لوگوں کو سخت بحران کا سامنا: تیجسوی یادو

تیجسوی یادو نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ’’بہار میں گزشتہ کئی دنوں سے زیادہ تر اے ٹی ایم بالکل خالی ہیں۔ لوگوں کے سامنے سخت بحران ہے۔ لوگوں کا بینکوں میں جمع اپنا پیسہ بھی بینک ضرورت کے حساب سے انہیں نہیں دے رہے ہیں۔ نوٹ بندی گھوٹالہ کا اثر اتنا وسیع ہے کہ بینکوں نے ہاتھ کھڑے کر لئے ہیں۔ نئے نوٹ سرکولیشن سے کیوں غائب ہیں؟‘‘

ایک ہفتہ میں حالات معمول پر ہوں گے: ایس بی آئی چیئر مین

ملک کی کئی ریاستوں میں چل رہے بحران پر بات کرتے ہوئے ایس بی آئی کے چیئر مین رجنیش کمار سنہا نے کہا ہے کہ اگلے ہفتہ تک یہ بحران ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا ’’یہ صورت حال کوئی نئی نہیں ہے۔ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ آر بی آئی نے 500 روپے کے نوٹوں کا سرکولیشن بڑھانے کو کہا ہے، ایسا ہوتے ہی حالات معمول پر ہوں گے۔‘‘

حکومت کا اعتراف، کچھ ریاستوں میں ہے کیش بحران

ملک کی کئی ریاستوں میں کیش کا بحران ہے اس بات کا اعتراف حکومت نے بھی کر لیاہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ شیو پرتاپ شکلا نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ دو تین دن میں یہ بحران دور ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا ’’ریزرو بینک ریاستوں میں پیسوں کی غیر مساوات کو دور کر رہا ہے۔ ایک ریاست سے دوسری ریاست میں پیسے پہنچ رہے ہیں۔ پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ حالات نوٹ بندی جیسے نہیں ہونے دئے جائیں گے اور جلد ہی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

ادھر وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ ملک میں نقدی فراہمی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’مجموعی طور پر جتنے کیش کے ضرورت ہے ہمارے پاس اس سے زیادہ موجود ہے۔ کچھ علاقوں میں کچھ پریشانیاں ہیں انہیں دور کیا جا رہا ہے۔‘‘

ادھر چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ نے اپنے بیان میں کہا، ’’دیگر ریاستوں کی طرح ہی کیش کا بحران چل رہا ہے۔ اس پریشانی کو جلد دور کر دیا جائے گا۔‘‘

کیش بحران پر لوگوں کا غصہ پھوٹا

بہار، گجرات اور دیگر کئی ریاستوں کے بعد کیش کا بحران اب ملک کے مزید شہروں میں نظر آنے لگا ہے اور لوگوں کو اے ٹی ایم سے کیش نکالنے میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آندھرا پردیش، کرناٹک، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، تلنگانہ، چھتیس گڑھ میں اے ٹی ایم سے روپے نہ نکلنے کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ جس کا غصہ لوگ سوشل میڈیا کی سائٹوں پر ظاہر کر رہے ہیں۔

حیدرآباد کے رہائشی صادق نے ’قومی آواز‘ سے گفتگو میں بتایا کہ ’’میرے گھر کے نزدیک اے ٹی ایم ہے لیکن میں اس سے کیش نکالنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا ہوں۔ اے ٹی ایم اب صرف منی اسٹیٹ منٹ نکالنے کے کام کی چیز رہ گیا ہے۔ یہ پریشانی پچھلے ایک مہینے سے چل رہی ہے۔‘‘

اے ٹی ایم سے کیش غائب، عوام پریشان

ملک کی کئی ریاستوں میں نوٹ بندی جیسا کیش بحران ایک بار پھر گہرا گیا ہے۔ اتر پردیش، اتراکھنڈ، بہار، جھارکھنڈ اور گجرات سمیت کئی ریاستوں کے بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں میں کیش موجود نہیں ہے۔

بینکنگ ذرائع کے مطابق، ان ریاستوں سے ریزرو بینک اور حکومت کو لگاتار شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ حالات سے نمٹنے کے لئے وزارت خزانہ نے ریزرو بینک کے افسران کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ سب سے زیادہ اثر کوآپریٹیو بینک اور دیہی علاقوں میں نظر آ رہا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول