دہلی: بھیم آرمی کا ’آرکشن بچاؤ‘ مارچ، 23 فروری کو ’بھارت بند‘، سی اے اے کی بھی مخالفت کا اعلان

چندر شیکھر کے مطابق یہ لڑائی آئین کی روح کی بقا کی لڑائی ہے، یہ حکومت آئین سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کر رہی ہے۔ ملک میں او بی سی طبقہ کو بڑے پیمانے پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

آس محمد کیف

نئی دہلی: بھیم آرمی نے اتوار کے روز چندر شیکھر کی قیادت میں ریزرویشن پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مارچ نکالا۔ متعدد بھیم آرمی کارکنان نے منڈی ہاؤس سے مارچ شروع کیا اور پارلیمنٹ اسٹریٹ کی طرف گامزن ہوئے۔ تاہم مظاہرین کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر روک دیا اور آگے نہیں جانے دیا۔

دہلی: بھیم آرمی کا ’آرکشن بچاؤ‘ مارچ، 23 فروری کو ’بھارت بند‘، سی اے اے کی بھی مخالفت کا اعلان

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ریاستی حکومتیں سرکاری ملازمتوں کے پروموشن میں ریزرویشن دینے کی پابند نہیں ہیں۔ عدالت نے ریزرویشن کے حق کو بنیادی حق بھی ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت اگر چاہے تو اس فیصلہ کو پلٹ سکتی ہے، دلت اس کے لئے حکومت پر دباؤ بنا رہے ہیں۔ دلتوں میں غصہ ہے اور انہوں نے تحریک چھیڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھیم آرمی کی طرف سے 23 فروری کو بھارت بند کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے قبل دہلی میں ’ریزرویشن بچاؤ مارچ‘ نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ چندر شیکھر آزاد نے بھارت بند کے دوران سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کی مخالفت کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

دہلی: بھیم آرمی کا ’آرکشن بچاؤ‘ مارچ، 23 فروری کو ’بھارت بند‘، سی اے اے کی بھی مخالفت کا اعلان

بھیم آرمی کے مارچ کو جب پولیس نے روک دیا تو انہوں نے بیریکیڈ کے پاس ہی احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ چندر شیکھر نے وہاں موجود مظاہرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا، ’’عدالت نے کہا ہے کہ ریزرویشن ان کا بنیادی حق نہیں ہے۔ بھیم آرمی رہنما نے کہا کہ 23 فروری کا بند تاریخی ہوگا اور اس کے لئے 4 ریاستوں میں عوامی رابطہ قائم کیا جا چکا ہے۔ یہاں سے میں پنجاب جا رہا ہوں۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’اس بند میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی بھی مخالفت کی جائے گی۔ مرکزی حکومت لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کر ہی ہے کہ وہ بیرونی ملکوں کے مظلوم دلتوں کا سی اے اے سے بچاؤ کر رہی ہے جبکہ ملک میں دلتوں کی صورت حال بے حد خراب ہے۔ آج جو لوگ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف کھڑے ہوں گے، ان کے بچے آنے والے کل میں شان سے جیے گیں۔‘‘ چندر شیکھر نے کہا کہ ملک میں سب سے بڑا انقلاب اتر پردیش سے آئے گا۔‘‘

چندر شیکھر نے تمام دلت رہنماؤں اور نمائندگان سے حمایت مانگی ہے۔ چندر شیکھر نے کہا، ’’ریزویشن ہمیں بابا صاحب کی جدوجہد سے حاصل ہوا ہے اگر ریزرویشن ہی نہیں رہے گا تو ہمارے وجود کو ہی خطرہ پیدا ہو جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہم نے ہمیشہ لڑ کر اپنے حقوق کی حفاظت کی ہے۔ ہم نے طے کیا ہے کہ اب بھی لڑا جائے گا۔ یہ دلتوں کی عزت نفس کا سوال ہے ہم کسی طرح کا منووادی ایجنڈہ لاگو نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

چندر شیکھر کے مطابق یہ لڑائی آئین کی روح کی بقا کی لڑائی ہے، یہ حکومت آئین سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کر رہی ہے۔ ملک میں او بی سی طبقہ کو بڑے پیمانے پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

چندر شیکھر نے اپنے خطاب میں سی اے اے کے تعلق سے کہا، ’’ہمارے ہی کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ سی اے اے سے دلتوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آئین پر حملہ ہے اور اس کے بعد دلتوں، آدیواسیوں اور مسلمانوں کے ووٹ کا حق چھیننے کی سازش کی جائے گی۔‘‘

مارچ میں ڈاکٹر کفیل کی اہلیہ ڈاکٹر شبستہ خان بھی موجود تھیں۔ چندر شیکھر نے لوگوں سے ان کا تعرف کراتے ہوئے کہا کہ ’’میں اپنی اس بہن کا درد سمجھتا ہوں کیوں کہ ایسا میرے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔ ہم ہر محاذ پر ڈاکٹر کفیل کی لڑائی لڑیں گے۔‘‘