آسام: ہیلا کانڈی میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد کرفیو 

ہیلا کانڈی قصبہ میں ایک مسجد کے باہر ہوئے تصادم کے بعد ضلع میں کشیدگی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق امن و قانون کو برقرار رکھنے کے لیے فوج، آسام رائفل اور سی آر پی ایف سمیت نیم فوجی دستے تعینات کیے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

گوہاٹی: جنوبی آسام کے ہیلاکانڈی ضلع میں کل ہوئے تصادم میں ایک شخص کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کے بعد پھیلی کشیدگی کی وجہ سے آج دوسرے دن بھی کرفیو نافذ ہے۔

ہیلا کانڈی کے سرکاری افسران نے بتایا کہ تصادم میں زخمی ہونے والے ایک شخص نے کل رات اسپتال میں دم توڑ دیا، لاش کا پوسٹ مارٹم ہوگیا ہے اور اسے دن میں لواحقین کے حوالہ کردیا جائے گا۔ زخمی ہونے والے کئی دیگر افراد کا مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ اس تصادم میں سرکاری اور پرائیویٹ املاک کو نقصان پہنچا ہے اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

ہیلا کانڈی قصبہ میں ایک مسجد کے باہر کل ہوئے تصادم کے بعد ضلع میں کشیدگی جاری ہے۔ ذرائع نے کہاکہ امن وقانون کو برقرار رکھنے کے لیے فوج اور آسام رائفل اور سی آر پی ایف سمیت نیم فوجی دستے تعینات کیے ہیں تاکہ پولس کی مدد کی جاسکے۔

کل ابتدا میں ہیلا کانڈی قصبہ میں کرفیونافذ کیا گیا تھا جسے بعد میں پورے ضلع میں نافذ کر دیا گیا اور یہ کل صبح سات بجے تک نافذ رہے گا۔

ضلع کے مختلف حصوں سے بھیڑ جمع ہونے کی خبریں ہیں لیکن انتظامیہ کی بر وقت کارروائی نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔ وزیراعلی سربا نند سونوال اور ہیلا کانڈی کے ڈپٹی کمشنر کیرتی جلی نے امن کی اپیل کی ہے اور نظم ونسق کو برقرار رکھنے پر لوگوں پر زور دیا ہے۔

ضلع انتظامیہ نے امن کمیٹیوں کی میٹنگ کا بھی منصوبہ بنایا ہے جبکہ وزیراعلی نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ریاست کے کابینہ وزیر پریمل شکلا بیدیہ کو ذمہ داری سونپی ہے۔ ریاست کے اعلی سرکاری افسران جن میں ایڈیشنل چیف سکریٹری راجیو بورا، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولس مکیش اگروال اور بارک ویلی ریجن کے کمشنر انورالدین چودھری صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہیلا کانڈی پہنچ گئے ہیں۔ ہیلاکانڈی میں کل جمعہ کی نماز کے بعد ایک مسجد کے نزدیک دو فرقوں کے درمیان تصادم ہو گیا تھا۔

Published: 11 May 2019, 10:10 PM