دہلی میں کورونا انفیکشن پازیٹویٹی شرح میں اضافہ فکر انگیز، بیداری مہم میں تیزی لائے حکومت: چودھری انل کمار

دہلی کانگریس کے صدر چودھری انل کمار کا کہنا ہے کہ راجدھانی میں کیجریوال کے ’دہلی ماڈل‘ کا طبی نظام خستہ حالی کا شکار ہے اور وزیر اعلیٰ دہلی چھوڑ کر دوسری ریاستوں کے انتخابی اجلاس میں مصروف ہیں۔

دہلی کانگریس کے سربراہ انل چودھری / تصویر ڈی پی سی سی
دہلی کانگریس کے سربراہ انل چودھری / تصویر ڈی پی سی سی
user

قومی آوازبیورو

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں دھیرے دھیرے ڈھیل کے بعد روز مرہ کی زندگی میں واپسی کرتے دہلی کے باشندوں کے گھروں سے باہر نکلنے کے بعد کووڈ-19 انفیکشن کے معاملوں میں اضافہ ہونا، دہلی کی اروند کیجریوال حکومت کے طریقہ کار پر شبہ اور سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی میں کورونا انفیکشن بڑھنے کے ساتھ اس کا فیصد 0.03 سے بڑھ کر 0.07 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ چودھری انل کمار نے کہا کہ راجدھانی میں کووڈ پر کنٹرول کرنے کی بڑی بڑی باتیں کرنے والے وزیر اعلیٰ یہ بھول رہے ہیں کہ ابھی کووڈ ختم نہیں ہوا ہے اور انھیں ماہرین اور سائنسدانوں کی تیسری لہر کی تنبیہ کو بالکل بھی نہیں بھولنا چاہیے، جس میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر ماہ کے وسط میں تیسری لہر آ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی حکومت کو کووڈ پروٹوکول پر عمل کے لیے بیداری مہم میں تیزی لانی چاہیے۔

چودھری انل کمار کا کہنا ہے کہ دہلی چھوڑ کر دوسری ریاستوں میں انتخابی جلسہ کرنے میں مصروف وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو دہلی کے اسپتالوں کا انتظام درست کرنے کی خصوصی ضرورت ہے، کیونکہ دوسری لہر کے دوران دہلی میں انفیکشن اور انفیکشن سے ہونے والی اموات کی دہشت جس طرح پھیلی تھی، اسے دہلی والے بھولے نہیں ہیں۔ اس لیے تہواروں کے سیزن میں دہلی حکومت کو کووڈ-19 پر کنٹرول کے لیے خاص طبی انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ بھیڑ پر قابو کرنے کا انتظام بھی کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب، اتر پردیش، اتراکھنڈ، گوا اور گجرات میں طبی نظام میں بہتری لانے کا اعلان کرنے والے وزیر اعلیٰ کیا ان ریاستوں میں دہلی ماڈل کے خستہ طبی نظام کو نافذ کرنے جا رہے ہیں۔


چودھری انل کمار نے کہا کہ دہلی کے اسپتال کووڈ-19 کے علاوہ ڈینگو، ملیریا اور وائرل بخار کے مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں، کیونکہ مانسون کے بعد گندے پانی سے وائرل بخار کے معاملے ہر سال سامنے آتے ہیں۔ اس وجہ سے دہلی حکومت کے اسپتالوں کی خستہ حالت میں بہتر لانا ضروری ہے۔ ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ دہلی کا غریب آدمی جو کووڈ کی مار سے باہر نہیں نکل پایا ہے، اس میں پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کی صلاحیت نہیں ہے۔ چودھری انل کمار نے کہا کہ دہلی میں بغیر انتظام اور پالیسی کے کیجریوال حکومت کے ذریعہ شراب کی سبھی پرائیویٹ دکانوں کو ایک ساتھ بند کرنے کے سبب سرکاری شراب کی دکانوں پر کووڈ-19 کی پروٹوکول کی دھجیاں اڑاتے ہوئے لمبی لمبی لائنوں میں لگے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔