پنچایت ریزرویشن عمل کو لے کر عدالت نے شیوراج حکومت کو بھیجا نوٹس

’پنچایت ایکٹ کی دفعہ اور ضوابط کے مطابق پنچایت ریزرویشن کے لیے روٹیشن اصول ہے، پنچایت الیکشن بھلے سال 2014 کی حد بندی کی بنیاد پر ہوں، لیکن سال 22-2021 الیکشن کے لیے نیا ریزرویشن کرنا ہوگا۔‘

تصویر mphc.gov.in
تصویر mphc.gov.in
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش میں پنچایت انتخاب کو لے کر چل رہی تیاری کے درمیان ریزرویشن عمل کو لے کر کانگریس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اس پر ہائی کورٹ کی گوالیر ڈویژنل بنچ نے شیوراج حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ریاست میں 2019 میں کی گئی پنچایتوں کی حد بندی کو ابھی حال ہی میں منسوخ کر دیا گیا، کیونکہ پنچایت راج ایکٹ کے مطابق نئی حد بندی ہونے کے ایک سال میں انتخاب ضروری ہے، لیکن ایسا نہیں ہو پایا تھا۔ اس کے بعد ریزرویشن کا انتظام سال 2014 کے مطابق ہی اپنائے جانے کی بات کہی جا رہی ہے، جب کہ کانگریس اس کے خلاف ہے۔

کانگریس کے ریاستی ترجمان اور چھندواڑا کے رکن پارلیمنٹ نکل ناتھ کے نمائندہ سید جعفر نے سال 2014 کے ریزرویشن پر الیکشن کرائے جانے پر اعتراض درج کرایا اور ہائی کورٹ جا پہنچے۔ سید جعفر نے بتایا کہ مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ آئندہ گرام پنچایت الیکشن سال 2014 کے ریزرویشن سے کرانے کے خلاف ہمارے ذریعہ ہائی کورٹ جبل پور کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ کی ڈویژنل بنچ اندور اور گوالیر میں بھی عرضیاں داخل کی گئی ہیں، جس میں گوالیر ڈویژنل بنچ کے ذریعہ عرضی قبول کرتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔


سید جعفر کا دعویٰ ہے کہ شیوراج حکومت کو پنچایت کے آئندہ الیکشن نئے ریزرویشن پر ہی کرانا پڑے گا۔ جعفر کا کہنا ہے کہ پنچایت ایکٹ کی دفعہ اور ضابطوں کے مطابق پنچایت الیکشن کے لیے روٹیشن اصول کا انتظام ہے، پنچایت الیکشن بھلے ہی سال 2014 کی حد بندی کی بنیاد پر ہوں، لیکن سال 22-2021 کے الیکشن کے لیے نیا ریزرویشن کرانا ہوگا۔

سید جعفر نے بتایا کہ ریاست میں پنچایت راج ایکٹ 1993 کے تحت گرام پنچایتوں کے سرپنچ عہدہ کے لیے روٹیشن اصول سے ریزرویشن کرنے کا انتظام کیا گیا ہے، جس کے تحت ایکٹ نافذ ہونے سے ابھی تک تقریباً پانچ بار پنچایتی راج کے الیکشن ہو چکے ہیں جس میں ہر بار روسٹر نظام پر عمل کرتے ہوئے ریزرویشن کیا گیا ہے۔ اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ جو پنچایت گزشتہ الیکشن میں جس طبقہ کے لیے ریزرو تھا، اس طبقہ کے لیے اگلے الیکشن میں ریزرو نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ مثال کے طور پر دیکھیں تو پنچایتیں سال 2014 میں خواتین کے لیے ریزرو تھی، انھیں پھر سال 22-2021 کے الیکشن میں خوتین کے لیے ہی ریزرو کر دینا اور قبل میں مردوں کے لیے ریزرو جگہ کو پھر مردوں کے لیے ریزرو کر دینا طے ضابطہ کے خلاف ہے، کیونکہ گزشتہ الیکشن میں جو پنچایت جس طبقہ کے لیے ریزرو تھا اس میں تبدیلی ہوگی ہی نہیں۔ اس لیے ریزرویشن کے لیے روٹیشن اصول کو اپنانا ہی ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔