قومی

وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر میں ایسا کیا تھا؟ جانچ کرنے والا آئی اے ایس افسر معطل

الیکشن کمیشن کے احکامات کے مطابق کرناٹک کیڈر کے آئی اے ایس افسر محمد محسن کو ایس پی جی کے حفاظتی انتظامات سے جڑے احکامات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے معطل کر دیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اڈیشہ کے سمبلپور میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ہیلی کاپٹر کی مبینہ جانچ کرنے کے لئے الیکشن کمیشن نے اڈیشہ کے جنرل آبزرور کو سسپنڈ کر دیا ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’’مودی ہیلی کاپٹر میں کیا لے کر جا رہے تھے جو وہ نہیں چاہتے تھے کہ ملک دیکھے؟‘‘

واضح رہے کل یعنی بدھ کے روز الیکشن کمیشن کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس کے مطابق کرناٹک کیڈر کے 1994 بیچ کے آئی اے ایس افسر محمد محسن نے ایس پی جی کے حفاظت سے جڑے احکامات پر عمل نہیں کیا۔ ضلع افسر اور پولس ڈائریکٹر جنرل کی رپورٹ کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے محسن کو معطل کر دیا ہے۔ محسن نے منگل کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کے ہیلی کاپٹر کی مبینہ جانچ کی تھی۔

اس سارے معاملہ پر کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے ’’الیکشن کمیشن نے ایک افسر کو گاڑیوں کی جانچ کرنے کے لئے معطل کر دیا ہے، انتظامیہ نے انتخابی تشہیر کے لئے قانونی طور پر استعمال ہونے والی گاڑیوں کے استعمال کا حوالہ دیا ہے اور اس میں وزیر اعظم کو کسی طرح کی چھوٹ حاصل نہیں ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ہیلی کاپٹر میں کیا لے کر جا رہے تھے جو وہ نہیں چاہتے تھے کہ ملک دیکھے؟‘‘

اس پورے معاملہ پر اب سوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ واضح رہے گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن کی ٹیم نے کرناٹک کے سابق وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا اور اڈیشہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک کے ہیلی کاپٹروں کی تلاشی بھی لی تھی۔