نوٹ بندی کے 2 سال: کانگریس نے کیا ’یوم سیاہ‘ کا اہتمام، جگہ جگہ مظاہرے

تمل ناڈو: ضلع ویلور کے وانمباڈی میں ’یوم سیاہ‘ پر مظاہرہ کرتے کانگریس کارکنان

آنند شرما نے کہا کہ وزیر اعظم نے جسے کالا دھن قرار دیا تھا وہ بینکوں میں کیسے لوٹا اس کا ملک کو جواب چاہئے اور یہ بھی بتایا جائے کہ کیا اس سے بدعنوانی ختم ہوئی، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے قدم اکھڑے!

نئی دہلی: نوٹ بندی کے تمام نتائج کے ذمہ دار وزیر اعظم کو قرار دیتے ہوئے کانگریس نے آج کے دن کو یوم سیاہ ٹھہرایا اور الزام لگایا کہ کالے دھن کے حوالے سے نریندر مودی کے سارے دعوے غلط ثابت ہوئے۔

کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے یہاں کہا کہ بینک میں تقریباً تمام ممنوعہ قرار پانے والی رقم کی واپسی صرف اس لئے یقینی بن سکی کہ یہ رقم کسی اور کی نہیں محنت کش ہندوستانیوں کی تھی اورجو دس ہزار سات سو کروڑ واپس نہیں آیا وہ بھی نیپال اور بھوٹان سے لوٹ آیا ہوتا۔ وہ رقم مبینہ طور پر لوٹنے نہیں دی گئی۔

کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھی نوٹ بندی کے حوالہ سے ٹوئٹ کر کے اسے سوچ سمجھ کر کی جانے والی ایک جابرانہ سازش قرار دیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ گھوٹالہ وزیر اعظم کے سوٹ بوٹ والے دوستوں کا کالا دھن سفید کرنے کی اسکیم تھی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے جسے کالا دھن قرار دیا تھا وہ بینکوں میں کیسے لوٹا اس کا ملک کو جواب چاہئے اور یہ بھی بتایا جائے کہ کیا نوٹ بندی سے بدعنوانیاں بند ہوئیں اور دہشت گردی اور انتہاپسندی کے قدم اکھڑے۔

آنند شرما نے کہا کہ ریزرو بینک واضح کر چکا ہے کہ کتنی رقم آج سرکولیشن میں ہے۔ تو کیا اس فیصلے کی، جس ملک کو صرف نقصان پہنچا، تلافی کی گئی ہے۔ البتہ ہوا یہ کہ کارخانے بند ہو گئے اور کروڑوں لوگ بے روزگار ہوگئے۔

ملک کے متعدد شہروں کے ساتھ ویلور ضلع کے وانمباڈی میں بھی نوٹ بندی کی برسی پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ یہاں تمل ناڈو کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے مظاہرہ کی قیادت کی۔

کانگریس رہنما نے سوال کیا کی بتایا جائے کہ نوٹ بندی کی قطاروں میں کون لوگ 43 دنوں تک دھکے کھاتے رہے۔کیا وہ کالے دھن والے تھے۔ نہیں وہ ایک تانا شاہ کے غلط فیصلے کا شکار لوگ تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایک لاکھ 34 ہزار بینک شاخیں ہیں جن میں سے 78 فیصد شہروں اور قصبات میں ہیں۔ گاؤں دیہات کے لوگوں پر نوٹ بندی کا کیا تباہ کن اثر پڑا اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔دوسری طرف سچ یہ ہے کہ اس وقت 36 ہزار کروڑ نقلی نوٹ بازار میں ہیں۔ سابقہ حکومت میں ان کی تعداد 4عشاریہ تین فیصد تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غلط کیا تھا یا کہاں ہوا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول