چین نے پی ایم او کے عہدیداروں، پولیس سربراہوں اور چیف سیکریٹریوں کی جاسوسی کرائی!

چین کی طرف سے ہندوستان میں 370 سے زیادہ اہم افراد کی جاسوسی کے انکشاف کے بعد اس معاملہ میں قومی ادارہ برائے تکنیکی تحقیقات یعنی این ٹی آر او نے اپنی جانچ شروع کر دی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ہندوستان میں چین کی جاسوسی کے حوالہ سے لگاتار تیسرے دن سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے، انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق چین دفتر وزیر اعظم (پی ایم او) کے دفتر کے عہدیداروں، ریاستوں کے ڈی جی پیز اور چیف سیکریٹریوں سمیت 370 سے زیادہ لوگوں کی جاسوسی کر رہا ہے۔ اس معاملہ میں قومی ادارہ برائے تکنیکی تحقیقات یعنی این ٹی آر او نے اپنی جانچ شروع کر دی ہے۔

چین کی طرف سے جن عہدیداران کی جاسوسی کی جا رہی تھی ان کے نام ہیں۔ ارچنا ورما، ایڈیشنل سکریٹری قومی ویجی لنس کمیشن، ٹی شریکانت، جی کشن ریڈی کے ذاتی سکریٹری، وزارت داخلہ، انیل ملک، ایڈیشنل سکریٹری (خارجہ) وزارت خارجہ، ڈی راج کمار، سی ای او، بھارت پٹرولیم، وویک بھاردواج، ایڈیشنل سکریٹری (پولیس تجدید کاری) وزارت داخلہ، ندھی چھبر، جوائنٹ سکریٹری اور ایکویزیشن منیجر (بحری نظام) واشنگٹن ڈی سی، انجنا دوبے، ڈپٹی ڈائریکٹر مالی خدمات کمیشن۔

ایک روز قبل انڈین ایکسپریس نے انکشاف کیا تھا کہ چین ہندوستان میں اعلیٰ آئینی عہدوں پر بیٹھے سیاستدانوں اور اسٹریٹجک عہدوں پر بیٹھے افسران کی جاسوسی کر رہا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ چین وزیر اعظم نریندر مودی سمیت پانچ وزرائے اعظم، سابق اور موجودہ 40 وزارئے اعلیٰ، 350 ارکان پارلیمان، قانون سازوں، رکن اسمبلی، سرپنچ اور فوج سے وابستہ تقریباً 1350 لوگوں کی جاسوسی کر رہا ہے۔ انڈین ایکسپریس نے جن ناموں کا انکشاف کیا ہے، ان میں ملک کے کئی اہم ترین لوگوں کے نام شامل ہیں۔

اس سے پہلے کل انڈین ایکسپریس نے انکشاف کیا تھا کہ چین ہندوستان کے پیمنٹ ایپ، سپلائی چین، ڈلیوری ایپس اور ان ایپس کے سی ای او-سی ایف او سمیت تقریباً 1400 اشخاص اور اداروں کی جاسوسی کر رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں چین ملک کے اسٹارٹ اپس اور ای کامرس پلیٹ فارم اور ہندوستان میں واقع بیرونی سرمایہ کاروں اور اہم تکنیکی عہدیداروں کی بھی نگرانی کر رہا ہے۔

چین کی کمپنی شین جھیک انفوٹیک اور شنہوا انفوٹیک یہ جاسوسی کر رہی ہے۔ شین جھیک انفوٹیک کمپنی یہ جاسوسی چین کی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت کے لئے کام کر رہی ہے۔ اس کمپنی کا کام دوسرے ممالک پر نظر رکھنا ہے۔

    next