الہ آباد کا نام تبدیل کرنے سے اس کی شناخت پر اثر پڑے گا: کانگریس

جس طرح الہ آباد کے کچھ حصوں کو الگ کر کے کوشامبی ضلع بنایا گیا ہے اسی طرح سے کچھ حصے کو الگ کر کے پریاگ کو ایک نیا ضلع بنایا جا سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: اتر پردیش کے ضلع الہ آباد کا نام تبدیل کر کے پریاگ رکھے جانے کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے اعلان پر سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ تہذیبی اور تاریخی نظریہ سے معروف بے شمار خوبیوں سے مالا مال اس شہر کا نام بدلنے سے اس کی پہچان متأثر ہو سکتی ہے۔

ریاستی کانگریس کے ترجمان اونکار ناتھ سنگھ نے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پریاگ راج کا وجود تو پہلے سے ہی ہے۔ کمبھ کا انعقاد پریاگ کے علاقے میں ہی ہوتا ہے یہ علاقہ تقریباً 20 سے 22 کلو میٹر میں پھیلا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پریاگ ریلوے اسٹیشن پہلے سے ہی ہے۔ حکومت پریاگ راج کا اعلان کرنا چاہتی ہے تو پھر جس طرح سے الہ آباد کے کچھ حصوں کو الگ کر کے کوشامبی بنایا گیا ہے اسی طرح سے کچھ حصے کو الگ کر کے پریاگ کو ایک ضلع بنایا جا سکتا ہے لیکن الہ آباد کے نام کو ختم کرنا تحریک آزادی کی تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کرنے جیسا ہے جسے ریاست اور ملک کی عوام قبول نہیں کریں گے۔

سنگھ نے کہا کہ اگر الہ آباد کا نام پریاگ رکھا جاتا ہے تو الہ آباد یونیورسٹی کا نام بھی پریاگ یونیورسٹی ہوگا۔ ایسی صورت میں عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی اپنی شناخت کھو دے گی اور وہاں کے فارغین کو کیا ویسا احترام نہیں مل پائے گا جو الہ آباد یونیورسٹی کے نام سے ملتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ الہ آباد کا امرود مشہور ہے اور الہ آبادی امرود کے نام سے باہر کے بازاروں میں فروخت کیا جاتا ہے ایسے میں جب الہ آباد ہی نہیں رہے گا تو اس کا برانڈ تو متأثر ہوگا ہی اور وزیر اعلی کی ون انڈسٹر ون پروڈکٹ کی اسکیم بھی اس سے متأثر ہوگی، اتنا ہی نہیں ایسی تمام چیزیں ہیں جن کے لئے کافی دقتیں پیدا ہونگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 14 Oct 2018, 8:52 PM