مظفرنگر: خود کو بی جے پی لیڈر کا قریبی بتاتے ہوئے ڈاکٹر نے کی صحافی کی بے عزتی

متاثرہ صحافی مرزا گلزار نے بتایا کہ مظفر نگر کے نٹراج بلڈنگ میں فرضی واڑے کا کھیل چل رہا تھا، انھیں اس کی جانکاری نہیں تھی اس لیے یہاں اپنی بیوی کی ایم آر آئی کروائی تھی۔

تصویر بذریعہ آس محمد کیف
تصویر بذریعہ آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

مظفر نگر میں ایم آر آئی اور سٹی اسکین کی فرضی رپورٹ بنانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ یہاں ایک ایم آر آئی سنٹر میں کھلے عام فرضی واڑا ہو رہا تھا۔ سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ فرضی واڑا ایک صحافی کی بیوی کے ساتھ ہوا تو پولیس موقع پر پہنچی، لیکن اس کے بعد ایم آر آئی سنٹر چلانے والے ڈاکٹر نے پولیس کے سامنے ہی خود کو ایک بڑے بی جے پی لیڈر کا قریبی ہونے کی دھونس دکھا دی۔ اتنا ہی نہیں، صحافی کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے اس کا فون چھین لیا۔ اس کے بعد مظفر نگر کے صحافیوں میں ناراضگی پیدا ہو گئی اور وہ مقدمہ درج کرانے کے لیے بضد ہو گئے۔ مقدمہ درج نہ ہونے پر صحافیوں نے دھرنے پر بیٹھنے کی تنبیہ دے دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزم ڈاکٹر ایک بڑے لیڈر کا رشتہ دار ہے۔

متاثرہ صحافی مرزا گلزار نے بتایا کہ مظفر نگر کے نٹراج بلڈنگ میں فرضی واڑے کا کھیل چل رہا تھا۔ انھیں اس کی جانکاری نہیں تھی اس لیے یہاں اپنی بیوی کی ایم آر آئی کروائی تھی۔ اس میں دو سال پہلے آپریشن کر نکالی جا چکی ’اووری‘ کو بھی رپورٹ میں معمول کے مطابق دکھا دیا گیا۔ گلزار نے بتایا کہ اس کی شکایت کرنے پر سنٹر کے منتظم سبھاش بالیان نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور موبائل چھین لیا۔ اس کے بعد جب صحافی نے پولیس کو بلایا تو سبھاش بالیان نے پولیس کے سامنے خود کو وزیر کا رشتہ دار بتا کر رعب دکھانے لگا۔


مرزا گلزار نے بتایا کہ مظفر نگر میں ایم آر آئی اور سٹی اسکین کی فرضی رپورٹ کے نام پر بڑا کھیل چل رہا ہے۔ ان جانچوں کے نام پر صارفین سے موٹی رقم وصولی جا رہی ہے اور صارفین کو فرضی رپورٹ دی جا رہی ہے جس سے بیماری کا صحیح اندازہ ہونے کی جگہ مریض کی بیماری بڑھ جاتی ہے۔

مرزا گلزار نے اپنی بیوی شیزہ خانم کی رپورٹ سے متعلق بتایا کہ جمعہ کو اس نے ایک ایم آر آئی کرایا تھا جس میں اس سنٹر کے ذریعہ جو رپورٹ دی گئی وہ واضح طور پر فرضی نکلی۔ اس رپورٹ کے مطابق خانم کی ’اووری‘ نارمل تھی، جب کہ اسے دو سال پہلے ہی آپریشن کر کے نکال دیا گیا تھا۔ اس تعلق سے جب خانم اور اس کے شوہر نے اس سنٹر پر پہنچ کر جانکاری دی تو اسپتال اسٹاف نے بدسلوکی شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر مرزا گلزار نے ویڈیو بنانی شروع کر دی۔ اسپتال اسٹاف اس پر مشتعل ہو گئے اور صحافی کے ساتھ مار پیٹ کرتے ہوئے اس کا موبائل چھین لیا۔ اس کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ موقع پر پہنچی پولیس نے متاثرہ کا موبائل واپس کرایا۔ اس معاملے میں متاثرہ فریق کے ذریعہ ملزم ڈاکٹر کے خلاف پولیس کو تحریری دی گئی ہے۔


خانم نے اس تعلق سے کہا کہ اس سنٹر پر جب کوئی مریض سٹی اسکین اور ایم آر آئی کرانے کے لیے جاتا ہے تو اسپتال کا اسٹاف مریض سے اس کا پرانا الٹراساؤنڈ اور رپورٹ مانگتا ہے اور اسی رپورٹ کی بنیاد پر مریض کو رپورٹ بنا کر دے دیتا ہے اور مریض کو صحیح ریزلٹ نہیں مل پاتا۔ خانم والے معاملے میں بھی اس اسپتال کے اسٹاف کے ذریعہ پرانی رپورٹ مانگی گئی تھی، اور اسی رپورٹ کی بنیاد پر اس سنٹر کے ذریعہ نئی رپورٹ تیار کر کے دے دی گئی۔ لیکن وہ یہ چیک نہیں کر پائے کہ جس ’اووری‘ کو وہ نارمل ٹھہرا رہے ہیں، وہ تو موجود ہی نہیں ہے۔

بہرحال، اس واقعہ کے بعد مظفر نگر کے صحافیوں میں کافی ناراضگی اور غم و غصہ ہے۔ صحافی تنظیموں کے تمام لیڈران پولیس سے مقدمہ درج کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ ملزم کے رسوخ دار ہونے کے سبب اب تک مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔ مظفر نگر کے میڈیا سنٹر کے سربراہ انل رائل نے واقعہ کو افسوسناک بتاتے ہوئے کہا ہے کہ فرضی واڑہ پکڑے جانے کے بعد اور متاثرہ کے صحافی ہونے کی جانکاری ملنے کے بعد بھی صحافی کے ساتھ کی گئی بدسلوکی ناقابل قبول ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 02 Apr 2022, 11:11 PM