بڑی خبر: جموں و کشمیر کے کشواڑ میں بس حادثہ، 17 افراد ہلاک،11 زخمی

جموں: جموں کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں جمعہ کو ایک منی بس چناب دریا میں گر جانے سے 17 افرادکی موت ہوگئی جبکہ 11 دیگر زخمی ہوگئے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق حادثہ اتنا بھیانک تھا کہ 11 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ دیگر 6 افراد نے استال میں دم توڑ دیا۔

سنیئر پولیس سپر نٹنڈنٹ راجندر گپتا نے بتایا کہ کیشوان سے کشتواڑجا رہی منی بس ٹھکرائی کے نزدیک کُریا کیشوان سڑک سے پلٹ کر چناب دریا میں گرگئی۔ انہوں نے بتا یا کہ سبھی لاشوں کو نکال لیا گیا ہے اور زخمیوں کو ضلع اسپتال میں بھرتی کیا گیا ہے ۔کچھ شدید زخمیوں کو جموں منتقل کیا گیا ہے۔

کشتواڑ کے ڈی سی انگریز سنگھ رانا نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے شدید طور سے زخمی لوگوں کو اسپتال پہنچانے میں سرعت دکھائی۔ انہوں نے بتایا کہ مہلوکین کے لواحقین کو 5-5 لاکھ جبکہ زخمیوں کو 50-50 روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ کشتواڑ میں ایک مہینے میں یہ تیسرا بڑا حادثہ پیش آیا ہے۔

کانگریس پارٹی کی جانب سے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے خلاف نشانہ لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعہ کے روز دہلی کے ادیوگ بھون میٹرو اسٹیشن کے نزدیک یوتھ کانگریس نے احتجاج کیا اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے استعفی کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے، بینکوں کے ہزاروں کروڑ روپے لے کر فرار ہونے والے کاروباری وجے مالیا نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ملک چھوڑنے سے قبل اس نے پارلیمنٹ میں ارون جیٹلی سے ملاقات کی تھی اور بینکوں کے قرض کی ادائیگی کی تجویز دی تھی۔ اس بڑے انکشاف کے بعد سے ہی کانگریس بی جے پی پر حملہ آور ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ ارون جیٹلی نے ملک سے باہر بھاگنے میں وجے مالیا کی مدد کی۔

 

مہاراشٹر کی دھرم آباد عدالت نے گوداوری ندی کی بابلی منصوبہ کے حوالہ سے وابستہ 2010 کے ایک معاملہ میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو سمیت 14 دیگر ملزمان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔

عدالت نے پولس سے تمام ملزمان کو گرفتار کر کے 21 ستمبر تک پیش کرنے کو کہا ہے۔

بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر عرف راون کو سہارنپور جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ ان پر مئی 2017 میں سہارنپور میں ذاتیاتی فساد پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت جیل بھیجا گیا تھا۔

راون کو دیر رات گئے 2.30 بجے رہا کیا گیا۔ اس سے قبل بدھ کے روز اتر پردیش کی یوگی حکومت نے راون کو جیل سے رہا کرنے کے احکامات جاری کر دئے تھے۔

راون کی رہائی کے دوران بڑی تعداد میں بھیم آرمی کے حامی جیل کے باہر جمع رہے اور جیل کے اطراف میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے۔ راون کو 16 مہینے بعد جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ کئی سیاسی جماعتیں لگاتار ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

جیل سے رہا ہوتے ہی چندر شیکھر راون نے جلسہ سے خطاب کیا اور بی جے پی پر زبردست حملہ بولا۔ راون نے کہا کہ سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو ہرانا ہے۔ انہوں نے کہا ’’بی جے پی اقتدار میں تو کیا اپوزیشن میں بھی نہیں آ پائے گی۔ بی جے پی کے غنڈوں سے لڑنا ہے۔ سماجی مفاد میں اتحاد ہونا چاہئے۔

قابل ذکر ہے کہ چندر شیکھر راون کو آزاد کرانے کے لیے دلت طبقہ نے کئی بار احتجاجی مظاہرہ کیا اور بار بار یوگی حکومت پر اس سے متعلق بار بار دباؤ بنایا لیکن انھوں نے اب تک کوئی سنوائی نہیں کی تھی۔ اب جب کہ دلت طبقہ نے کئی تنظیموں سے ملک اسی ماہ کے آخر میں ایک عظیم الشان احتجاج کا ذہن تیار کر لیا تھا تو مجبوراً یوگی حکومت کو انھیں آزاد کرنے کے بارے میں سوچنا پڑا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ قدم اٹھا کر بی جے پی دلتوں کے درمیان اپنی شبیہ کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول