سرحد پر گولی باری: میگھالیہ میں موبائل خدمات سنیچر تک معطل

مغربی جینتیا ہلز ضلع میں منگل کے روز گولی باری سے میگھالیہ کے 5 شہریوں اور ایک آسامی فارسٹ گارڈ کی ہلاکت کے بعد موبائل انٹرنیٹ اور ڈیٹا خدمات کی معطلی میں سنیچر تک توسیع کر دی گئی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

شیلانگ: مغربی جینتیا ہلز ضلع میں منگل کے روز گولی باری سے میگھالیہ کے 5 شہریوں اور ایک آسامی فارسٹ گارڈ کی ہلاکت کے بعد موبائل انٹرنیٹ اور ڈیٹا خدمات کی معطلی میں سنیچر تک توسیع کر دی گئی ہے۔ حکام نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ میگھالیہ کے ہوم سکریٹری سی وی ڈی ڈینگدوہ نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ مغربی جینتیا ہلز ضلع کے موکروہ گاؤں میں فائرنگ کے واقعہ سے امن و امان کے درہم برہم ہونے اور 7 اضلاع میں عوامی تحفظ کو خطرہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ’’اس طرح کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ واٹس ایپ جیسی میسجنگ ایپس اور فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب وغیرہ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تصاویر، ویڈیوز اور اشتعال انگیز پیغامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ میگھالیہ میں امن کو خراب کرنے کے لئے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے جمعرات کی صبح 10.30 بجے سے اگلے 48 گھنٹوں کے لیے موبائل انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ جن 7 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ معطل کیا گیا ہے وہ مغربی جینتیا ہلز، ایسٹ جینتیا ہلز، ایسٹ کھاسی ہلز، ری بھوئی، ایسٹ ویسٹ کھاسی ہلز، ویسٹ کھاسی ہلز اور ساؤتھ ویسٹ کھاسی ہلز ہیں۔‘‘


دریں اثنا، حکام نے کہا کہ میگھالیہ کابینہ کا ایک وفد، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ کونراڈ کے سنگما کر رہے ہیں، جمعرات کی رات دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرے گا اور پورے معاملے پر بات چیت کرے گا۔ وزارتی ٹیم فائرنگ کے واقعہ کی این آئی اے یا سی بی آئی سے جانچ کا مطالبہ کرے گی۔ میگھالیہ کابینہ کا وفد آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما سے بھی ملاقات کرنے والا ہے۔

کئی غیر سرکاری تنظیموں کے احتجاج کے درمیان میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ایک وزارتی ٹیم نے بدھ کو موکروہ گاؤں کا دورہ کیا اور ہر ایک کو 5 لاکھ روپے کا ایکس گریشیا چیک سونپا۔ مغربی جینتیا ہلز ضلع کے گاؤں اور بین ریاستی سرحد کے مختلف حصوں میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایک سرکاری ترجمان کے مطابق میگھالیہ حکومت نے کمیشن آف انکوائری ایکٹ 1952 کے تحت ایک عدالتی کمیشن کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ فائرنگ کے واقعہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔


میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ نے پہلے کہا تھا کہ آسام پولیس اور فاریسٹ گارڈز نے موکروہ گاؤں میں گھس کر فائرنگ کی جس میں میگھالیہ کے 5 شہری اور آسام کے فارسٹ گارڈز ہلاک ہوئے۔ معلومات کے مطابق آسام پولیس اور فارسٹ گارڈز نے موکروہ گاؤں میں لکڑی سے لدے ایک ٹرک کو روکا جس کے بعد بڑی تعداد میں گاؤں والوں نے موقع پر پہنچ کر پولیس اور فارسٹ گارڈز کو گھیر لیا، جس کے بعد فائرنگ کی گئی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔