اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے پانی کی طرح بہایا پیسہ، صرف بنگال میں 151 کروڑ روپے ہوئے خرچ

جب جب انتخاب جیتنے کی بات آتی ہے، تب تب مرکز میں بیٹھی مودی حکومت نے پیسے کو پانی کی طرح بہایا ہے۔ یہ الزامات نئے نہیں ہیں، بلکہ سالوں سے بی جے پی یہی رویہ اختیار کرتی رہی ہے۔

نریندر مودی اور امت شاہ
نریندر مودی اور امت شاہ
user

قومی آوازبیورو

ملک جب مہنگائی سے پریشان ہے، ایسے وقت میں بی جے پی کا مقصد صرف اور صرف الیکشن جیتنا ہے۔ ایک طرف جہاں رسوئی گیس، پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، بی جے پی پیسے کے دَم پر آسام، تمل ناڈو، مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں کو جیتنے کے لیے پورا زور لگا رہی تھی۔

بی جے پی کی جانب سے انتخابی کمیشن کو خرچ کی سونپی گئی تفصیلات کے مطابق اس سال آسام، پڈوچیری، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور کیرالہ میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں تشہیر پر 252 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ پارٹی نے ان پانچ ریاستوں کے انتخابات میں تشہیر پر 2520271753 روپے خرچ کیے ہیں۔


میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ آسام انتخاب میں بی جے پی نے 43.81 کروڑ روپے اور پڈوچیری انتخاب میں 4.79 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ 252 کروڑ روپے کے تقریباً 60 فیصد حصے کا استعمال، یعنی 151 کروڑ روپے بی جے پی نے مغربی بنگال میں خرچ کیے۔ یہاں ترنمول کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے بی جے پی نے لیڈروں کی پوری فوج میدان میں اتار دی تھی، اور پیسہ بھی خوب خرچ کیا۔ بی جے پی کے لیے افسوسناک یہ رہا کہ اتنا خرچ کرنے کے باوجود اسے مغربی بنگال میں منھ کی کھانی پڑی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔