بنگال اسمبلی میں بی جے پی اراکین کا ہنگامہ، کئی منٹ تک گونجتا رہا ’جے شری رام‘ کا نعرہ

بی جے پی اراکین اسمبلی نے اس وقت ہنگامہ شروع کیا جب گورنر دھنکڑ نے اپنی تقریر شروع کی تھی، ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے گورنر کو اپنی تقریر چھوٹی کرنی پڑی اور مشکل سے تین یا چار منٹ میں ہی وہ باہر نکل گئے۔

گورنر دھنکڑ کی فائل تصویر، آئی اے این ایس
گورنر دھنکڑ کی فائل تصویر، آئی اے این ایس
user

تنویر

مغربی بنگال میں جمعہ کو نئے اسمبلی اجلاس کا آغاز ہوا، لیکن پہلے ہی دن سب کچھ ہنگامے کی نذر ہو گیا۔ بی جے پی اراکین اسمبلی کے ذریعہ گورنر جگدیپ دھنکڑ کی تقریر میں الیکشن کے بعد ہوئے تشدد کا تذکرہ نہ ہونے پر خوب ہنگامہ کیا۔ بی جے پی لیڈروں نے اسمبلی میں ہی ’جے شری رام‘ اور ’بھارت ماتا کی جئے‘ نعرے زور زور سے لگانے لگے۔ کئی منٹوں تک ان نعروں کی گونج سنائی دیتی رہی۔ بی جے پی اراکین اسمبلی نے یہ ہنگامہ اس وقت شروع کیا تھا جب گورنر نے اپنی تقریر شروع کر دی تھی۔ ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے گورنر دھنکڑ کو اپنی تقریر چھوٹی کرنی پڑی اور مشکل سے تین یا چار منٹ میں ہی وہ باہر نکل گئے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی اطلاعات کے مطابق گورنر دھنکڑ جب اپنی تقریر ختم کر کے جانے لگے، تو بی جے پی لیڈران بھی ساتھ میں نکل گئے اور پوری طرح سے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ اس تعلق سے بی جے پی لیڈر شبھیندو ادھیکاری نے بعد میں پریس کانفرنس بھی کی اور الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت نے قصداً گورنر کی تقریر میں الیکشن کے بعد ہوئے تشدد کا تذکرہ نہیں کیا، جو ناقابل برداشت ہے۔


یہاں قابل ذکر ہے کہ ممتا حکومت اور گورنر دھنکڑ کے درمیان پہلے سے ہی ٹکراؤ چل رہا ہے۔ ایسی بھی خبریں سامنے آئی ہیں کہ جب حکومت نے تحریری شکل میں تقریر گورنر کو گزشتہ دنوں بھیجی تھی تو اس گورنر نے اعتراض کیا تھا اور اسے پڑھنے سے انکار بھی کیا تھا۔ لیکن جب یہ دلیل دی گئی کہ گورنر کے ذریعہ دی جانے والی تقریر ریاستی حکومت ہی تیار کرتی ہے اور تقریر کابینہ سے پاس ہو چکا ہے، تو آج یعنی 2 جولائی کو اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں انھوں نے تقریر شروع کیا۔ لیکن بی جے پی اراکین اسمبلی نے ہنگامہ شروع کر دیا جس کی وجہ سے دھنکڑ آدھی ادھوری تقریر کے بعد ایوان سے نکل گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔