بی جے پی کو لگ رہے جھٹکے پر جھٹکے، 24 گھنٹے کے اندر تین لیڈروں نے چھوڑا ساتھ

بی جے پی ایم پی رام پرساد شرما کے ذریعہ پارٹی کا ساتھ چھوڑنا نارتھ-ایسٹ میں اس کے لیے بہت بڑا جھٹکا ہے۔ بی جے پی لیڈروں کا لگاتار پارٹی چھوڑ کر الگ راستہ اختیار کرنا انتخاب میں مشکلیں پیدا کر سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی کو 24 گھنٹے کے اندر تین بڑے جھٹکے لگے ہیں جو لوک سبھا انتخابات سے قبل اس کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ پہلے تو گجرات بی جے پی کو ریشما پٹیل نے جمعہ کے روز جھٹکا دیتے ہوئے بی جے پی سے اپنا دامن چھڑا لیا، اس کے بعد راجستھان بی جے پی کو دیوی سنگھ بھاٹی نے جمعہ کو ہی خیر بعد کہتے ہوئے جھٹکا دیا، اور اب آسام کے تیج پور سے رکن پارلیمنٹ رام پرساد شرما نے پارٹی کو خیر باد کہہ دیا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق رام پرساد شرما نے سوشل میڈیا سائٹ فیس بک کے ذریعہ پارٹی سے الگ ہونے کا اعلان کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ پارٹی سے کچھ ایشوز پر ناراض تھے اور ممکن ہے کہ انھیں لوک سبھا ٹکٹ سے بھی محروم رکھنے کی کوشش ہو رہی ہو جس کے پیش نظر انھوں نے اپنا استعفیٰ دیا۔ خبروں کے مطابق شرما نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’وہ 15 سال آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے بعد لگاتار 29 سالوں تک بی جے پی میں کام کرتے رہے لیکن اب پارٹی انھیں فراموش کر رہی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’رکن پارلیمنٹ ہونے اور گورکھا سمیلن، آسام کا صدر ہونے کے باوجود ریاستی بی جے پی کمیٹی نے امیدواروں کے پینل میں میرا نام شامل نہیں کیا۔‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ انھوں نے اسی ناراضگی میں پارٹی کو خیر باد کہہ دیا۔

رام پرساد کے استعفیٰ سے نارتھ ایسٹ میں بی جے پی کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ حالانکہ فی الحال پارٹی کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ لیکن شرما نے بی جے پی سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی مقامی لوگوں کے لیے کام کرتے رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہاں قابل غور ہے کہ 16 مارچ کی شام بی جے پی اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کرنے والی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ کل 180 امیدواروں کا نام سامنے آئے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔