رام مندر کے معاملے میں ’بھارتی جہاد پارٹی‘ یعنی بی جے پی نے پھر ہندوؤں کو بیوقوف بنایا: ہندو مہاسبھا

آل انڈیا ہندو مہاسبھا نے بی جے پی کو ’بھارتی جہاد پارٹی‘ کہتے ہوئے اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی رام مندر کے نام پرہندوؤں کو بیوقوف بنا رہی ہے اور مودی حکومت صرف دکھاوا کر رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

’’بھارتی جہاد پارٹی یعنی بی جے پی نے ہندوؤں کو دوبارہ بیوقوف بنایا ہے، ایودھیا کی زمین کا مالک اور کسٹوڈین نرموہی اکھاڑا ہے اور اس میں کوئی اگر مگر نہیں ہے‘‘۔ یہ کہنا ہے آل انڈیا ہندو مہاسبھا کا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ایودھیا کی متنازعہ زمین کے چاروں طرف کی زمین ہندو تنظیموں کو دیئے جانے کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے، جسے ہندو مہا سبھا نے صرف دکھاوا بتایا ہے۔

آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے قومی نائب صدر اور رام جنم بھومی معاملے میں درخواست گزار سردار روی رنجن سنگھ نے کہا کہ ’’حکومت نے رام مندر کے معاملے میں کچھ خاص نہیں کیا، حکومت کو یہ قدم اقتدار سنبھالنے کے 24 گھنٹے کے اندر اٹھانا چاہیے تھا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ساری کی ساری زمین ’’ساکیت / ایودھیا شہر، بھگوان شری رام کی ہے، اسے متنازعہ کہیں یا غیر متنازعہ کہیں‘‘۔

دراصل لوک سبھا انتخابات قریب آتے ہی مرکز کی نریندر مودی حکومت نے رام مندر کارڈ دوبارہ کھیلا ہے، حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے رام مندر پر دوبارہ بحث شروع کرا دی ہے، این سی پی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ اور سینئر وکیل مجید میمن نے اسے حکومت کا انتخابی ہتھکنڈا قرار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کے آخری دنوں میں ایسی عرضی دائر کرنا صرف اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ بھٹکانے کی کوشش ہے، تاکہ غریب لوگ حکومت کی ناکامیوں کو بھول جائیں‘‘۔

قومی آواز سے بات چیت میں مجید میمن نے کہا کہ ’’اس معاملے کا جلد سے جلد حل نکالنے کے بجائے سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن سے معاملہ اور پیچیدہ ہو جائے گا اور عدالتی کارروائی میں مزید تاخیر ہوگی، اس درخواست کے بعد عدالت نئے سرے سے تمام فریقوں کو نوٹس جاری کر سکتا ہے، اس کے بعد ہی کیس پر سماعت ہوگی‘‘۔

مجید میمن نے کہا کہ ’’اگر ان (بی جے پی حکومت) کو اس زمین کی اتنی ہی ضرورت تھی تو وہ 5 سال تک انتظار کیوں کرتے رہے، پٹیشن جس وقت دائر کی گئی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے صرف سادھو، سنتوں اور ہندو مذہبی رہنماؤں کے غصے کے ڈر سے ایسا کیا ہے‘‘۔

وہیں حکومت کے اس قدم کو صحیح بتاتے ہوئے بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو نے کہا کہ ’’آپ نے دیکھا ہوگا کہ سپریم کورٹ میں اس معاملے کو لے کر کسی نہ کسی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے‘‘۔ ایک ویب سائٹ سے بات چیت میں رام مادھو نے کہا کہ ’’آخر کار ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ کم از کم ہم ایسا تو کر ہی سکتے ہیں، اگر ہم اس 42 ایکڑ زمین (ٹرسٹ کو) لوٹا سکے تو یہ اچھا قدم ہو گا، "پٹیشن دائر کرنے کے وقت پر رام مادھو نے کہا کہ ’’ ٹرسٹ اس زمین کے لئے گزشتہ 23 سال سے مطالبہ کر رہا ہے‘‘۔

غور طلب ہے کہ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو انتخابی سال رام مندر مسئلے پر ہندوؤں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، خاص طور سے شمالی ہندوستان میں حکومت مخالف ماحول کافی خراب ہے، عام انتخابات سے پہلے اس غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ہی مودی حکومت نے یہ داؤ کھیلا ہے۔

حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں کہا ہے کہ مرکز نے 1993 میں متنازعہ زمین سمیت قریب 67.7 ایکڑ زمین اپنی تحویل میں لے لی تھی، اس میں سے حکومت نے اضافی زمین کو حقیقی مالکان کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس 67.7 ایکڑ میں سے 42 ایکڑ زمین مندر ٹرسٹ کی ہے، حکومت نے کورٹ کو بتایا ہے کہ اس میں سے 25 ایکڑ زمین کا معاوضہ تو دے دیا گیا ہے، لیکن باقی زمین کے 47 مالک ٹرسٹ کے ہیں اور انہوں نے زمین واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے معاوضہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔

توجہ رہے کہ عدالت نے 2003 اور 2011 میں ایودھیا کی مکمل 67.7 ایکڑ زمین پر جیسا ہے ویسا برقرار رکھنے کا حکم دیا صادر کیا تھا، کورٹ نے کہا تھا کہ اگر زمین واپس کی جاتی ہے تو اس سے معاملہ اور زیادہ پیچیدہ ہو جائے گا۔