عمر ہے اندھیرے کی اک چراغ جلنے تک!... م-افضل

کل تک کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بی جے پی کے اندر سے مودی کے خلاف کوئی آواز اٹھ سکتی ہے مگر اب تو یہ کہنے لگے ہیں کہ اگر مودی کو تبدیل نہیں کیاگیا توبی جے پی 2019 کا الیکشن نہیں جیت سکتی۔

م. افضل

مدھیہ پردیش راجستھان اور چھتیس گڑھ جیسی اہم ریاستوں میں کانگریس کی شاندار کامیابی سے ان لوگوں کو سخت دھچکا لگا ہے جو مذہبی منافرت کو ہوا دے کر اقتدار میں بنے رہنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ یہ کامیابی کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے بلکہ اس کامیابی نے اب بی جے پی کے غیر مفتوح ہونے کے دعوے کو نہ صرف جھٹلا دیا ہے بلکہ اس نے ملک کے مایوس عوام کی آنکھوں میں امید کی نئی شمعیں روشن کردی ہیں۔ ’مودی نواز میڈیا‘ اس کامیابی کو اقتدار مخالف لہر سے تعبیر کرکے اس کی اہمیت کو کم کر دینا چاہتا ہے لیکن کیا یہ کامیابی واقعی اقتدار مخالف لہر کا نتیجہ ہے؟ ہم جب باریک بینی سے اس کا تجزیہ کرتے ہیں تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ کامیابی اقتدار مخالف لہر کا نتیجہ نہیں بلکہ مودی سرکار اور بی جے پی کی ریاستی سرکاروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش کو کل تک بی جے پی کا مضبوط قلعہ سمجھاجاتا تھا۔ یہاں پچھلے 15برس سے بی جے پی مسلسل اقتدار میں تھی۔ ان ریاستوں میں آر ایس ایس کے ’ہندتوا‘ پر مبنی نظام پر دھڑلّے سے عمل ہورہا تھا، یہاں تک کہ مدھیہ پردیش کو ’ہندتوا‘ کی نئی تجربہ گاہ کے طورپر مشتہر کیاجارہا تھا۔ مودی سرکار کی طرح ان ریاستی سرکاروں کے ذریعہ بھی ترقیوں کے دعوے کئے گئے، حصولیابیوں کا ذکر کیا گیا۔ اشتہارات اور پروپیگنڈوں پر تجوریوں کا منہ کھول دیا گیا۔ آر ایس ایس کے لوگ گھر گھرجاکر ’ہندتوا‘ کا سبق لوگوں کو پڑھا رہے تھے۔ مگر حیران کن بات تو یہ ہے کہ ترقیوں کا خواب دکھاکر اقتدار میں آئے وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران ترقی کی کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی اپنی عادت کے مطابق حصولیابی کاکوئی ذکر کیا بلکہ انہوں نے اپنا سارا زور کانگریس خاندان کے خلاف نازیبا تبصروں پر صرف کردیا، اور امت شاہ جیسے لوگوں نے مذہبی شدت پسندی کو بڑھاوا دینے والی تدبیریں کیں مگر جب نتیجے آئے تو سب ہکّا بکّا رہ گئے۔ ہندی بیلٹ کی ان تینوں اہم ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی اتنی نہیں ہیں کہ وہ نتائج پر اثر انداز ہوسکیں۔ اس لئے بی جے پی یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ مسلمان کانگریس کے حق میں صف بند ہوگئے اور ہندوووٹ تقسیم ہوگیا اس لئے کانگریس جیت گئی۔

درحقیقت بی جے پی کی اس شرمناک ہار کے پیچھے وہ عوامی مسائل کارفرما ہیں جن کو حل کرنے کی طرف وہاں کی سرکاروں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح ان ریاستوں میں بھی کسان گلے گلے تک مسائل میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ایک طرف تو ان کی فصلوں کے بہتر دام نہیں مل رہے ہیں، دوسری طرف ان پر بینکوں کا قرض ہے جسے وہ لوٹا پانے کی سکت نہیں رکھتے۔ کسانوں نے موقع موقع سے اپنے احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ سرکاروں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش بھی کی مگر ان کے مطالبات پر نہ تو ریاستی سرکاروں نے کوئی ہمدردی دکھائی اور نہ مرکز کی مودی سرکار نے، الٹے ہمارے وزیرمالیات نے دوٹوک لہجہ میں فرمادیا کہ سرکار کسانوں کا قرض معاف کرنے سے معذور ہے کیونکہ ایسا کرنے سے سرکاری خزانہ پر زبردست بوجھ پڑے گا۔ اس فیکٹر نے الیکشن میں اہم رول ادا کیا ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے الیکشن سے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ کانگریس کی سرکار بنتے ہی کسانوں کے قرض معاف کردیئے جائیں گے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حلف لینے کے بعد ترجیحی بنیاد پر تینوں ریاستوں میں کسانوں کے لئے قرض معافی کا اعلان ہوچکا ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ بے روزگاری کا ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ دوسرے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے جبریہ نفاذ سے بھی بے روزگاری بڑھی ہے اورکاروبار متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے نوجوانوں میں مایوسی کے ساتھ ساتھ غم وغصہ بھی پایا جاتا ہے۔ آر ایس ایس کے نظریہ سازوں کو اس کا احساس ہے اور شاید اسی لئے آر ایس ایس اور اس کی حواری تنظیمیں منصوبہ بند طریقہ سے نوجوانوں کو گمراہ اور ان کے مذہبی جذبات کا استحصال کرنے کی غرض سے، انہیں مذہبی اشوز میں الجھائے رکھنے کی مسلسل کوششیں کرتی رہی ہیں لیکن ان ریاستوں میں اس بار یہ آزمودہ نسخہ بھی ناکام رہا۔

چنانچہ یہی نہیں ہوا کہ عوام نے ہندتوا کے ایجنڈے کو ٹھکراکر کانگریس کو ایک بار پھر اقتدار سونپ دیا ہے بلکہ انتہائی اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ اس کامیابی سے اب قومی سطح پر راہل گاندھی کا سیاسی قد بڑھ چکا ہے ان کے تعلق سے میڈیا اور سیاسی تجزیہ نگاروں کی سوچ بھی بدل چکی ہے۔ اس بات کا اشارہ تو انتخابی مہم کے دوران ہی مل گیا تھا کہ مقبولیت میں راہل گاندھی، نئی بلندیوں کو چھورہے ہیں۔ ان کی ریلیوں میں بھیڑ اور جس طرح ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لوگ دیوانہ وار دوڑتے نظر آئے اور جس طرح ان کے سیدھے سادے لفظوں میں کہی گئی باتوں پر لوگوں نے تالیاں بجائیں، وہ ان لوگوں کے لئے بلاشبہ غیر متوقع اور حیرت انگیز تھی جو مودی کی چرب زبانی، جھوٹ اور پروپیگنڈہ آمیز تقریر سے متاثر تھے اور جن کا خیال تھا کہ مودی کا طلسم آسانی سے نہیں ٹوٹنے والا۔ اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران راہل گاندھی نے کوئی منفی بات نہیں کہی اور نہ ہی کسی پر کوئی نازیبا تبصرہ کیا، حالانکہ دوسروں کو جانے دیں خود وزیراعظم نے اپنے عہدہ کی حرمت کا خیال نہیں رکھا اور یوپی اے سربراہ سونیاگاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف انتہائی نازیبا تبصرے کئے۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ جس کے پاس کچھ ہوگا وہی دوسروں کو کچھ دے سکتا ہے اور جس کے پاس کچھ ہوگا ہی نہیں وہ دوسروں کو کیا دے گا۔ وزیراعظم جانتے تھے کہ پرانے شعبدے اب نہیں چل سکتے، اس لئے انہوں نے کانگریس لیڈروں کی تضحیک کو ہی اپنا انتخابی ہتھیار بنایا مگر عوام نے بتادیا کہ وہ اب اس طرح کی شعبدہ بازی سے نہیں خوش ہوسکتے۔

یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ اس نے ملک کے مایوس عوام کے دلوں میں امید کی جوت جگادی ہے۔ مسلسل جھوٹ اور میڈیا کے پروپیگنڈوں کے سہارے کل تک مودی جی کو ایک ایسی دیو مالائی شخصیت کے طورپر پیش کیاجارہا تھا، جو غیر مفتوح اور ناقابل شکست سمجھی جاتی ہے مگر حالیہ اسمبلی الیکشن کے نتائج نے اس دیومالائی شخصیت کی قلعی کھول دی۔ یہاں تک کہ اب میڈیا پر بھی بی جے پی کے زوال کو لے کر بحثیں ہونے لگی ہیں۔جو امت شاہ کل تک اعلان کررہے تھے کہ ان کی سرکار کو آئندہ 20برس تک کوئی ہلا نہیں سکتا اب کہہ رہے ہیں کہ 2019 کے لئے ہمیں سخت محنت کرنی ہوگی اور اگر ہم اس بار ہار گئے تو آئندہ 25برس تک کے لئے اقتدار سے باہر ہوجائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے ہواکا رخ بھانپ لیا ہے اور ایسا کہہ کرایک طرح سے اپنی شکست بھی تسلیم کرلی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ حالیہ شکست پر آر ایس ایس کی طرف سے اب تک کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ ایسا لگتاہے کہ اس شکست سے اس کے نظریہ ساز بھی بوکھلاگئے ہیں کیونکہ اپنے لئے اور خاص طورپر بی جے پی کے لئے جن ’اشوز‘ (ہندتوا) کو وہ کامیابی کی کلید سمجھ بیٹھے تھے، عوام نے اسے ٹھکرا دیا ہے۔ راہل گاندھی کی سیدھی سادی حکمت عملی نے ان کے سارے کئے دھرے پر پانی پھیردیا ہے کل تک کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بی جے پی کے اندر سے مودی کے خلاف کوئی آواز اٹھ سکتی ہے مگر اب کچھ لوگ نہ صرف مودی کی قیادت پر سوال اٹھانے لگے ہیں بلکہ یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ اگر مودی کو تبدیل نہیں کیاگیا توبی جے پی 2019 کا الیکشن نہیں جیت سکتی۔ حالیہ سیاسی کامیابی کے بعد ایک نیا راہل گاندھی سامنے آچکا ہے اور ملک کے وہ بھولے بھالے ’مجبور وبے بس عوام‘ جو مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب چکے تھے۔ ان کے لئے راہل گاندھی ایک روشن چراغ کی صورت آکھڑے ہوئے ہیں اور اس شعر کی تفسیر بن چکے ہیں ؎

بے بسی کا منظر ہے سوچ کے بدلنے تک

عمر ہے اندھیرے کی اک چراغ جلنے تک

(مضمون نگار اردو کے سینئر صحافی اور کانگریس کے قومی ترجمان ہیں)

Published: 23 Dec 2018, 3:39 AM