بہار: اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی این ڈی اے میں شگاف کے آثار!

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 7 جون کی شام بہار میں ڈیجیٹل ریلی کرنے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امت شاہ بہار میں انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔ لیکن اس ریلی سے پہلے ہی بہار این ڈی اے میں شگاف کی خبریں آ رہی ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا قہر کے درمیان بی جے پی بہار میں انتخابی تیاریاں شروع کر رہی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر امت شاہ 7 جون کی شام بہار میں ڈیجیٹل ریلی کرنے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امت شاہ بہار میں انتخابی مہم کا آغاز بھی کر دیں گے۔ لیکن اس ریلی سے پہلے ہی بہار میں این ڈی اے میں شگاف کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔ دراصل این ڈی اے کی ایک بڑی حلیف پارٹی ایل جے پی کے قومی صدر چراغ پاسوان نے ایک بیان دے کر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ چراغ کا کہنا ہے کہ بہار انتخاب میں بی جے پی طے کرے گی کہ قیادت کس کے ہاتھوں میں ہوگا۔ ایل جے پی صدر کے اس بیان کے الگ الگ معنی نکالے جا رہے ہیں۔ چراغ نے کہا ہے کہ وہ ہر فیصلے میں بی جے پی کے ساتھ ہیں، چاہے نتیش کمار کی قیادت جاری رکھنی ہو یا اسے بدلنے کی بات ہو۔

قابل ذکر ہے کہ چراغ پاسوان پہلے بھی نتیش حکومت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ حال ہی میں ان کے والد اور مودی حکومت میں وزیر رام ولاس پاسوان نے نتیش کمار حکومت کے ذریعہ مہاجر مزدوروں کی واپسی نہ کرانے کے فیصلے پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت اس بحران سے نمٹنے میں پوری طرح کارگر نہیں رہی۔

بہر حال، خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں چراغ پاسوان نے کہا کہ "چہرہ کون ہوگا؟ اتحاد کا لیڈر کون ہوگا؟ یہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو اتحاد کی سب سے بڑی پارٹی بی جے پی کو طے کرنا ہے۔ بی جے پی جو بھی فیصلہ لے گی اس میں ایل جے پی مضبوطی کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ اگر وہ (بی جے پی) نتیش کمار جی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تب بھی ہم ان کے ساتھ ہیں، اگر وہ تبدیلی کا ذہن بنانا چاہتے ہیں تب بھی ساتھ ہیں۔ بی جے پی جو بھی فیصلہ لے گی، ہم حمایت کریں گے۔"

یہاں قابل ذکر ہے کہ بی جے پی ابھی تک یہی کہتی آئی ہے کہ نتیش کمار کی قیادت میں ہی بہار اسمبلی کا انتخاب لڑا جائے گا۔ لیکن مہاجر مزدور کا مسئلہ، کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے درمیان جنتا دل یو اور بی جے پی میں سیاسی چپقلش کی قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا بی جے پی ایک بار پھر نتیش کمار کی قیادت میں انتخاب لڑنے کا فیصلہ کرے گی، یا پھر بہار کی سیاست میں پھر سے کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

next