نصف سے بھی کم اراکین پارلیمنٹ نے گود لیے گاؤں، پی ایم مودی کی مہم کو لگا جھٹکا

وزارت برائے دیہی ترقی نے سبھی ریاستوں کو خاص ہدایات جاری کی ہیں۔ ریاستوں کے چیف سکریٹریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی سطح پر اورینٹیشن پروگرام کر اراکین پارلیمنٹ کو گاؤں گود لینے کے لیے تیار کریں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

وزیر اعظم نریندر مودی کی ’سانسد آدرش گرام یوجنا‘ کو ان کے ہی اراکین پارلیمنٹ نے جھٹکا دے دیا ہے۔ 2019 سے 2024 کے لیے منصوبہ کے شروع ہوئے دوسرے مرحلہ میں نصف سے بھی کم اراکین پارلیمنٹ نے گاؤں گود لیے ہیں۔ اس سے متفکر وزارت برائے دیہی ترقی نے سبھی اراکین پارلیمنٹ کو خط جاری کر گاؤں گود لینے کی اپیل کی ہے۔ یہ حال تب ہے جب 2019 میں جیتے نئے اراکین پارلیمنٹ کو گاؤں کو گود لینے کی ٹریننگ بھی مل چکی ہے۔ وزارت برائے دیہی ترقی اب اراکین پارلیمنٹ کو گاؤں گود لینے کے لیے ترغیب دینے میں مصروف ہے۔

دراصل گزشتہ 19 اور 20 دسمبر وزارت برائے دیہی ترقی میں ایک اہم میٹنگ ہوئی تھی، جس میں پتہ چلا تھا کہ تقریباً ڈھائی سو گاؤں کو ہی اراکین پارلیمنٹ نے گود لیا ہے۔ 19 دسمبر سے پہلے اور کم گاؤں گود لیے گئے تھے، جس کی وجہ سے 11 جولائی اور 8 اکتوبر کو دو بار وزارت برائے دیہی ترقی کو خط لکھ کر اپیل کرنی پڑی تھی۔ اس سے گود لیے گاؤں کے اعداد و شمار میں کچھ بہتری ہوئی۔ وزارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میٹنگ کے ہونے کے بعد اب تک فروری میں کل 300 گاؤں ہی گود لیے جا چکے ہیں۔ جب کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا ملا کر کل 788 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔

گاؤں کو گود لینے میں اراکین پارلیمنٹ کی اس بے رخی کو دیکھتے ہوئے وزارت برائے دیہی ترقی نے سبھی ریاستوں کو خاص ہدایات جاری کی ہیں۔ ریاستوں کے چیف سکریٹریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی سطح پر اورینٹیشن پروگرام کر اراکین پارلیمنٹ کو گاؤں گود لینے کے لیے ترغیب دیں۔ آئی اے این ایس کے پاس گزشتہ 6 فروری کو وزارت برائے دیہی ترقی کے پالیسی، پلاننگ اور مانیٹرنگ ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر آشیش سکسینہ کا وہ خط ہے جس میں انھوں نے دسمبر میں ہوئی پرفارمنس ریویو کمیٹی کی میٹنگ کے ایجنڈے کو سبھی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور چیف سکریٹریوں کو بھیجا ہے۔ جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ میٹنگ کے ہدایات کے مطابق ’سانسد آدرش گرام یوجنا‘ میں تیزی لانا ضروری ہے۔ ہر ضلع کے کلکٹر ہر مہینے ترقیاتی پروگراموں کے تجزیہ کے دوران ’سانسد آدرش گرام یوجنا‘ کا بھی جائزہ لیں۔ اراکین پارلیمنٹ کی بے رخی کا یہ حال تب ہے جب کہ پارلیمنٹری ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسیز کی جانب سے گزشتہ 3 دسمبر کو نئے اراکین پارلیمنٹ کے لیے اورینٹیشن پروگرام بھی ہو چکا ہے۔